الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 617 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 617

586 مستقبل میں وحی و الهام اب ہم کچھ دیر کیلئے مسیح کی آمد ثانی کے مسئلہ سے حضرت امام مہدی علیہ السلام اپنی توجہ ہٹا کر حضرت امام مہدی علیہ السلام کے مقام اور منصب کا جائزہ لیتے ہیں۔آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق آخری زمانہ میں صرف حضرت عیسی علیہ السلام ہی کے ظہور کا ذکر نہیں ملتا بلکہ المہدی کے نام سے ایک اور مصلح کا بار بار ذکر ملتا ہے جس کا مطلب ہدایت یافتہ ہے۔اکثر احادیث عیسی (مسیح) اور مہدی کو دو الگ الگ شخصیات کے طور پر پیش کرتی ہیں لیکن اس سلسلہ میں ایک واضح اور اہم استثناء بھی ہے۔چنانچہ ابن ماجہ جو صحاح ستہ میں شامل ہے، سے بڑا قوی اور واضح تاثر ملتا ہے کہ یہ دونوں یعنی عیسی اور مہدی در اصل ایک ہی وجود کے دو مختلف نام ہیں۔حدیث کے اصل الفاظ یہ ہیں۔لا المهدي الا عيسى ابن مريم 2 یعنی عیسی بن مریم کے علاوہ کوئی اور مہدی نہیں۔۔اس کا صرف ایک ہی مطلب ہے کہ مہدی موعود کو ہی عیسی کا نام دیا گیا ہے۔تا ہم اکثر احادیث کے مطابق مہدی امت محمدیہ میں سے ہی پیدا ہوگا تو پھر وہ عیسیٰ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ حضرت عیسی نے تو ان کے یعنی مہدی کے بعد آسمان سے اترنا ہے؟ یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ عیسی کے لفظ کو تمثیلی رنگ میں ایک خطاب قرار دیا جائے جس کا حامل امام مہدی ہو اور کوئی علیحدہ عیسی آسمان سے نازل نہ ہو۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ امت مسلمہ میں پیدا ہونے والا مہدی ہی دراصل عیسیٰ بھی ہو گا۔یہ بات امام مہدی کے حقیقی مقام کی طرف ہماری رہنمائی کرتی ہے۔جیسا کہ ذیل میں وضاحت کی جائے گی کہ اس کا مقام ایک امتی نبی کا ہی ہوگا اگر چہ جمہور علماء ایسا نہیں سمجھتے۔حضرت عیسی کے معاملہ میں تو وہ بے دھڑک ہو کر مذکورہ بالا تو جیہات پیش کر کے انہیں نبی مان لیتے ہیں لیکن مہدی کے تعلق میں وہ اس لئے ایسا نہیں کر سکتے کہ کہیں ان کا یہ اقرار ان کے خاتمیت کے فلسفہ سے متصادم نہ ہو جائے۔مہدی کے متعلق ان کی سوچ بالکل مختلف ہے۔ان کے نزدیک وہ ایک بے تاج نبی ہوگا جس کو اگر چہ نبی کا نام تو نہیں دیا جائے گا لیکن وہ تمام صفات نبوت کا حامل ہوگا۔یہ ایسا ہی ہے