الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 618
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 587 جیسے کسی آدمی کو آدمی کہہ کر نہ پکارا جائے حالانکہ کسی اور نام سے پکارنے سے اسے مقام آدمیت سے تو نہیں گرایا جا سکتا۔علماء کو معلوم ہونا چاہئے کہ مہدی کا مقام تو اس کی صفات سے ہی متعین ہوگا اور اپنے کاموں کے اعتبار سے عملاً وہ نبی ہی ہو گا۔اگر کسی شخص میں نبی کی علامات موجود ہوں تو پھر آپ اسے خواہ کسی بھی نام سے پکاریں وہ بہر حال نبی ہی رہے گا۔جسے براہ راست خدا کی طرف سے مامور کیا گیا ہو، اس کا انکار دراصل خدا تعالیٰ کے انکار کے مترادف ہوگا۔چنانچہ حضرت امام مہدی کو امتی نبی نہ ماننے والا حقیقی مومن کہلانے کا حق نہیں رکھتا۔اس بات کو تو کثر علماء بھی تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت امام مہدی پر ایمان لانا ہر مسلمان پر فرض ہے۔اس طرح امام مہدی کو وہ تمام اختیارات حاصل ہوں گے جو صرف اور صرف انبیاء کا خاصہ ہیں۔امام مہدی کے حقیقی مقام کا انکار کرنے سے وہ اپنے مقام سے کسی طرح بھی محروم نہیں کیا جا سکتا۔البتہ انکار کرنے والوں کے متضاد عقائد کے تضاد میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔اسلام میں نبی کو وہ بلند ترین مقام حاصل ہے جس پر غیر تشریعی نبی اور الہام اللہ تعالی کسی انسان کو فائز فرماتا ہے اور نبی صرف پیشگوئیاں ہی نہیں کرتا بلکہ اسے خاص طور پر خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ منصب عطا ہوتا ہے۔ہر مصلح کیلئے نبی ہونا ضروری نہیں لیکن اللہ تعالیٰ ہر نبی کو لاز ما بطور ایک مصلح کے مبعوث فرماتا ہے۔الہام فی ذاتہ کسی کو نبی نہیں بنا دیتا حتی کہ الہام تو غیر نبی کو بھی ہو سکتا ہے اور اسے خدا تعالیٰ کے ساتھ مکالمہ مخاطبہ سے مشرف فرمایا جاسکتا ہے۔الہام کی اصطلاح اپنے اندر بہت وسعت رکھتی ہے اور اس کے بہت سے معانی اور مفاہیم ہیں۔مثلاً خواب، کشف وجدان اور کلام الہی وغیرہ۔چنانچہ الہام کی اس حیثیت کا قرون وسطی کے اکثر علماء نے کبھی انکار نہیں کیا۔اختلاف اگر ہے تو صرف نبوت کے متعلق ہے اور الہام کے اسی مخصوص پہلو کا اس وقت جائزہ لینا مقصود ہے۔اس پس منظر میں تشریعی انبیاء کے سلسلہ کے اختتام کی حکمت کو ہر کس و ناکس بآسانی سمجھ سکتا ہے۔لیکن جس سوال کے تفصیلی جائزہ کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ کیا ضروری ہے کہ