الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 573
542 عالمگیر ایٹمی تباهی ہوگا۔یقیناً یہ اشارہ اس تابکار بادل کی طرف ہے جو ایٹمی دھما کہ کے وقت بنتا ہے۔جس واقعہ کا یہاں ذکر ہو رہا ہے اس میں جو گیا رنگ کے بڑے بڑے شعلے بلند ہوں گے جنہیں قلعوں اور اونٹوں کے مشابہ قرار دیا گیا ہے۔اس مشابہت میں محض اونٹ کے رنگ کی طرف ہی نہیں بلکہ اس کے کو ہان کی طرف بھی اشارہ ہے۔ساتویں صدی کے لوگ اس ہلاکت خیز بادل یا دھوئیں کی اہمیت کو کما حقہ سمجھنے کے قابل نہیں تھے کیونکہ یہ بات ان کے فہم سے بالا تھی۔تاہم آج ہمیں ایٹمی دھماکوں کا بخوبی علم ہے اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے تابکار بادل کو ہم اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔اس خوفناک تباہی کا ذکر مندرجہ ذیل آیت میں بھی ملتا ہے۔ويلٌ يَوْمَيذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ (المرسلات (16۔77) ترجمہ: ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں پر۔اگر چه يَوْمَئِذٍ سے مراد قیامت کا دن بھی ہو سکتا ہے لیکن یہ اس زمانہ پر بھی دلالت کرتا ہے جب ان لوگوں کو جو الہی نشانات کا انکار کرتے ہیں ایک ایسے دھوئیں کا عذاب دیا جائے گا جس کے سائے کے نیچے ہر چیز پر موت برسے گی۔یہ ایک ایسا سایہ ہو گا جو ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کرے گا اور آرام دینے کی بجائے عذاب کا باعث ہوگا۔یہ وہ دور ہو گا جب انسان اس عظیم آسمانی عذاب کو دیکھنے کے بعد بالآخر خدا کی طرف رجوع کرے گا اور اس سے اس نا قابل برداشت عذاب سے بچنے کی التجا کرے گا۔لیکن جب اللہ تعالیٰ کا عذاب لوگوں پر نازل ہوتا ہے تو بخشش اور نجات کا وقت پہلے ہی گزر چکا ہوتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے۔الى لَهُمُ الذكرى وَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مُّبِين ) ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَقَالُوا مُعَلَّمٌ مَجْنُونٌ (الدخان (14:44-15) ترجمہ: ان کیلئے اب کہاں کی نصیحت جبکہ ان کے پاس ایک روشن دلائل والا رسول آچکا تھا۔پھر بھی انہوں نے اس سے اعراض کیا اور کہا سکھایا پڑھایا ہوا ( بلکہ ) پاگل ہے۔بنی نوع انسان کو انبیاء کے ذریعہ تنبیہ کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو ان کی