الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 572 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 572

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 541 موت ایکس ریز سے پیدا ہونے والی حرارت کی بجائے گاماریز کی شدید توانائی کے نتیجہ میں واقع ہوتی ہے۔قرآن کریم نے اس مضمون کو بعینہ اس طرح بیان کیا ہے۔پھر سورۃ الدخان میں قرآن کریم ایک ایسے مہلک بادل کا ذکر فرماتا ہے جو تباہ کن چمکدار دھوئیں پر مشمل ہوگا: فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَاتِ السَّمَاء بِدَحَانٍ مُّبِين 8 يُغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ (الدخان 11:44-12) ترجمہ: پس انتظار کر اس دن کا جب آسمان ایک واضح دھواں لائے گا جولوگوں کو ڈھانپ لے گا۔یہ ایک بہت درد ناک عذاب ہوگا۔مندرجہ ذیل آیات اس دھوئیں کی نوعیت پر مزید روشنی ڈالتی ہیں: انْطَلِقُوا إِلَى مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِبُونَ انْطَلِقُوا إلى ظل دن تالت كعب لا طيبة لا يعني مِنَ اللَّهَب الما تَرَى بِشَرَرٍ كَالقَصْرِن كانَه حِمَلَتْ صَفْرة (المرسلات (30:77-34 ترجمہ: اس کی سمت چلو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ایسے سائے کی طرف چلو جو تین شاخوں والا ہے۔نہ تسکین بخش ہے نہ آگ کی لپٹوں سے بچاتا ہے۔یقینا وہ ایک قلعہ کی طرح کا شعلہ پھینکتا ہے۔گویا وہ جو گیا رنگ کے اونٹوں کی طرح ہے۔یہاں انطَلِقُوا سے مراد یہ ہے کہ کسی وقت بنی نوع انسان پر ایسا زمانہ آئے گا جب انہیں ایک اذیت ناک بادل کی شکل میں ایک ایسی آفت کا سامنا کرنا پڑے گا جو کوئی سایہ یا تحفظ فراہم نہیں کرے گی۔سائے تو آرام اور پناہ دیا کرتے ہیں۔بادل ہمارے اور سورج کی جھلسا دینے والی تپش کے مابین حائل ہو جاتے ہیں۔مندرجہ بالا آیات میں کسی سورج کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ صرف اسی آگ کا ذکر ہے جس کی تپش سے یہ سایہ کوئی تحفظ فراہم نہیں کر سکے گا۔اس کے برعکس اس بادل کا سایہ آگ کے عذاب میں مزید اضافے کا باعث ہوگا۔اس کے سائے میں کچھ بھی محفوظ نہیں