الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 540
الهام ، عقل ، علم اور سچائی ترجمہ: اور جب زمین کشادہ کر دی جائے گی اور جو کچھ اس میں ہے نکال پھینکے گی اور خالی ہو جائے گی اور اپنے رب کی طرف کان دھرے گی اور یہی اس پر لازم کیا گیا ہے۔513 سورة الانشقاق کی چوتھی آیت میں مذکور پیشگوئی پندرہویں صدی کے اختتام یعنی 12 اکتوبر 1492ء کو اس وقت پوری ہوئی جب کرسٹوفر کولمبس نے بہاماس (Bahamas) کے ایک جزیرے پر قدم رکھا اور نئی دنیا دریافت ہوئی۔یوں مقامی امریکیوں کے انجام کا آغاز شروع ہوا۔تاہم امریکیوں کیلئے بظاہر یہ ایک لامتناہی سفر کی شروعات تھیں جس کے نتیجہ میں انہیں بالآخر باقی دنیا پر غلبہ نصیب ہونا تھا جس کا ذکر اگلی آیت میں کی گئی پیشگوئی میں بڑی وضاحت سے موجود ہے یعنی زمین اپنے تمام اسرار اگل دے گی اور خالی ہو جائے گی۔اسی مضمون کو بعض دوسری سورتوں میں بھی زیادہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔مثلاً سورۃ الزلزال میں فرماتا ہے۔إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا وَاَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا الزلزال 2:99-3) ترجمہ: جب زمین اپنے بھونچال سے جنبش دی جائے گی اور زمین اپنے بوجھ نکال پھینکے گی۔یہاں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ زمین پر ایک زبر دست زلزلہ آئے گا۔نتیجہ زمین اپنے اندر کی بھاری دھاتیں نکال باہر کرے گی۔اور انسان حیران ہوگا کہ آخر اسے ہو کیا گیا ہے۔انتقال کا لفظ ہر بھاری چیز کیلئے استعمال ہوتا ہے۔لہذا زمین کا اپنے اندر موجود بھاری دھاتوں کے اگلنے کا مفہوم کوئی بہت زیادہ بعید از امکان نہیں۔اس کا یہ ترجمہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ زمین اپنے مخفی خزانے اگل دے گی۔اگر پیشگوئی کے مطابق زمین دریافت شدہ دھاتوں کو اگل نہ دیتی تو ہمارے زمانہ کی زبر دست سائنسی ترقیات ممکن ہی نہ تھیں۔ان معدنی ذخائر کا شمار کیا جائے اور انہیں ایک طرف الگ رکھ دیا جائے تو یوں لگتا ہے کہ ان کے بغیر سائنسی ترقی کا پہیہ الٹا چل پڑے گا۔کوئلہ، پٹرولیم، یورینیم اور پلاٹونیم وغیرہ کی دریافت کے بغیر جدید دور کی کسی بھی اہم ایجاد کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔