الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 485
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 463 جملہ صلاحیتوں کے ساتھ پہلے سے تخلیق شدہ نہیں تھیں اور اسی طرح راڈز میں موجود تکنیکی نظام کا کونز کے ساتھ ربط پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق نہیں تھا تو یہ سب کچھ ایک انتہائی باہم مربوط نظام خود بخود کیسے تشکیل پا گیا جو انسان کی ترتیب دی ہوئی آرکسٹرا کی کسی بھی بہترین دھن سے کہیں زیادہ مربوط اور ہم آہنگ ہے۔اس عظیم الشان عضو کے کسی چھوٹے سے چھوٹے حصہ کیلئے بھی گہرے مطالعہ کی ضرورت ہے۔یہ امر نا قابل فہم ہے کہ بصری نظام کے یہ اجزاء کس طرح بتدریج ترقی کرتے کرتے کامل توازن کے ساتھ آنکھ کے ڈیلے کی شکل اختیار کر گئے اور اپنے اپنے مفوضہ افعال سر انجام دینے لگے۔یہ اور ایسے سینکڑوں سوالات ہیں جن کا جواب ان ملحد ماہرین حیاتیات کے ذمہ ہے۔اسی طرح ان کو آنکھ کے پورے ڈیلے اور اس کے نہایت نازک اور پیچیدہ خواص کے ارتقا کی قدم بقدم وضاحت کرنا ہوگی۔بصری نظام ایک عام آدمی کے فہم سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور مربوط نظام ہے یہاں تک کہ پروفیسر ڈاکٹر جو ایک معروف ماہر حیاتیات ہیں ان کا علم بھی اس کے بارہ میں محض سطحی ہے، اگر چہ سطح کا مکمل احاطہ کرنا بھی کارے دارد ہے۔اور اس میدان میں ان کے لئے مزید تحقیق کی بہت گنجائش ہے۔جانوروں کے حسی نظام میں بیشمار ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں جن میں کروڑ ہا سال قبل بھی ان کی ساخت کا وہی بنیادی ڈیزائن موجود تھا جو آجکل ہے۔البتہ دونوں میں ثانوی اور ذیلی نوعیت کے فرق ضرور ہیں۔تاہم یہ فرق بھی جانوروں کی مخصوص ضروریات کے مطابق تشکیل دیئے گئے ہیں۔چمگادڑ ، الو اور ڈالفن کے علاوہ بھی ایسے جانور ہیں جنہیں گھپ اندھیرے میں سننے اور دیکھنے کی صلاحیت رکھنے والا انتہائی حساس اور ترقی یافتہ نظام عطا کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں ذیل میں ایسے شعوری نظاموں کی چند مثالیں دی جارہی ہیں جو اپنے اپنے محدود دائرہ کار میں انسانوں اور انسان کی بنائی ہوئی مشینوں سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔اس سلسلہ میں ایک نہایت دلچسپ مثال ایسے سانپوں کی ہے جن میں ماحول سے آگاہی حاصل کرنے کیلئے ایک ایسا حساس نظام پایا جاتا ہے جس کا تمام تر دارو مدار بالائے بنفشی شعاعوں پر ہے گو اس نظام کا دائرہ کار محدود ہے۔اس قسم کے سانپ انتہائی ترقی یافتہ بالائے صوتی (ultrasonic) اور زیریں سرخ (infrared) آلات سے پوری طرح لیس ہوتے ہیں۔سانپوں