الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 486 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 486

464 وقت کا اندھا ، بھرہ اور گونگا خالق کی ایک خاص نوع میں آنکھوں اور نتھنوں کے درمیان ایک انتہائی حساس عضو پایا جاتا ہے جو اسے کسی پن ہول کیمرہ کی طرح ایک چھوٹے سے سوراخ کی مدد سے زیریں سرخ لہروں کو منتقل کرتا ہے۔یہ چند ملی میٹر کا سوراخ ان لہروں کو اس عضو تک پہنچاتا ہے جو اتنا حساس ہے کہ C° 0۔003 جیسے کم درجہ حرارت میں ہونے والی تبدیلیوں کو بھی محسوس کر لیتا ہے اور ایسی تبدیلیوں پر سانپ 35 ملی سیکنڈ کے انتہائی مختصر وقت کے اندر ردعمل دکھاتا ہے۔سانپ کے ردعمل کی یہ رفتار جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے بنائے گئے کسی بھی آلے کے مقابل پر سینکڑوں گنا زیادہ ہے۔11 تھر تھراہٹ پر رد عمل ظاہر کرنے کے اعتبار سے لال بیگ ( کاکروچ ) اس قدر حساس واقع ہوئے ہیں کہ وہ اتنی خفیف حرکت کو بھی محسوس کر لیتے ہیں جسے صرف اس پیمانہ سے ماپا جا سکتا ہے جو مالیکیولز کے باہمی فاصلوں کو ماپنے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔یہ خفیف حرکت ہائیڈ روجن ایٹم کی حرکت سے دو ہزار گنا زیادہ ہوتی ہے۔12 لال بیگ جیسی مخلوق کا اتنی خفیف حرکت کو بھی محسوس کر لینا عقل کو چکرا دینے والی بات ہے۔ہائیڈ روجن ایٹم کا سائز اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ انسانی آنکھ اسے صرف اس صورت میں دیکھ سکتی ہے جب 4 کے ہندسہ کے ساتھ 23 صفر لگا کر اس کے سائز کو اتنے گنا بڑا کر دیا جائے۔اگر کوئی قاری اس عدد کو بیان کرنا چاہے تو اس کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ ٹریلین جو انگریزی گنتی کا آخری لفظ ہے اس میں 1 کے ساتھ صرف 18 صفر لگتے ہیں لہذا اتنے بڑے عدد کو بیان کرنا سعی لاحاصل کے مترادف ہوگا۔سائنسدانوں نے سمندروں کی مقناطیسی قوت میں قدرتی طور پر وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیوں کے چارٹ اور نقشے بنانے کا انتہائی زبردست اور پیچیدہ کام حال ہی میں مکمل کیا ہے۔ویل مچھلی سمندر میں دوران سفر درست سمت کا تعین کرنے کے کیلئے انہی مقناطیسی تبدیلیوں کو استعمال کرتی ہے۔اب تک سائنسدانوں کو اس بات کا علم نہیں ہو سکا کہ یہ کس طرح ان تبدیلیوں کو محسوس کر کے اس مقصد کیلئے استعمال کرتی ہے۔شاید پروفیسر ڈاکنز ڈارون کے انتخاب طبعی کے قانون کے نظریہ کی روشنی میں یہ مسئلہ بآسانی سمجھا سکیں۔لیکن اس کے لئے سائنسدانوں کو صبر سے کام لینا ہو گا۔کیونکہ اس تدریجی قانون کی وضاحت کے لئے پوری عمر درکار ہے اور اغلب امکان یہی ہے کہ یہ گتھی پھر بھی نہ سلجھ سکے گی۔