الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 477 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 477

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 455 یہ دلیل سراسر غیر متعلق ہے۔وقت کی کمی بیشی کا اس امر سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔بوئنگ 747 کے بارہ میں تو انہیں علم ہے کہ چونکہ اس کی تیاری کے پیچھے ایک باشعور ذہن کارفرما تھا اس لئے وہ پہلے سے ایک تیار شدہ منصوبہ اور مقصد کے قائل ہیں۔ایک مثال کے ذریعہ یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ دراصل وقت کا ان کی دلیل سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہے۔مثلاً اگر اس ہوائی جہاز کا کوئی حصہ کسی ایسے ویرانے سے جہاں وہ گزشتہ پچاس کروڑ سال سے مدفون تھا دریافت ہو جائے تو کیا پروفیسر ڈاکنز یقین کر لیں گے کہ وقت ہی اس کا خالق ہے؟ ہرگز نہیں۔انہیں لامحالہ ایک ایسے غیر معلوم خالق کا، جو ایک باشعور ذہن کا مالک ہو، قائل ہونا پڑے گا۔پروفیسر ڈاکنز وقت کو جنتنا چاہیں طول دے دیں پھر بھی وہ کبھی اس بات پر یقین نہیں کر سکتے کہ بوئنگ 747 کا ایک پہیہ تک امتداد زمانہ کے ساتھ رفتہ رفتہ از خود تیار ہو گیا ہو۔یہاں زندگی کا ہونا یا نہ ہونا زیر بحث نہیں ہے بلکہ اس کی پیچیدگی ہتکنیکی ساخت اور اعلیٰ بناوٹ موضوع سخن ہے۔علاوہ ازیں اس موقف پر اصرار کہ چمگادڑ کی پیدائش نیچر کی اندھی اور شعور سے عاری قوتوں کی مرہون منت ہے، کا مقصد کسی نہ کسی طرح ایک مقتدر بالا رادہ خالق ہستی سے انکار کر کے ڈارون کے اندھے اور شعور سے عاری قانون کو اس کی جگہ لا بٹھانا ہے۔اس مفروضہ سے تو صرف وہی دانشور اتفاق کر سکتے ہیں جو وسیع علم اور فہم رکھنے کے باوجود محض خدا کی ہستی سے راہ فرار اختیار کرنے کیلئے ، وقتی طور پر ہی سہی ،عقل کے تقاضوں سے منحرف ہو جائیں۔پروفیسر ڈاکٹر نے ڈارون کے نظریہ کی تائید میں کمال ہوشیاری سے انتخاب طبعی کے اصول پر اٹھنے والے اس عمومی اعتراض کو رد کرنے کی کوشش کی ہے جس کے مطابق پیچیدہ اندرونی جینیاتی افعال میں انتخاب طبعی کے عمل دخل کی گلی نفی ہو جاتی ہے۔دراصل حیاتیات (Biology) کے متعلق ان کا بنیادی موقف یہی ہے۔انتخاب طبعی اور جینز (genes) کے باہمی تعلق پر انہوں نے ایک بالکل نیا تصور پیش کیا ہے۔انہیں اس بات سے بھی انکار نہیں کہ عمل ارتقا میں ہونے والی تبدیلیوں کے ذمہ دار جینز ہیں۔نہ ہی بظاہر ان کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ تبدیلیاں براہ راست انتخاب طبعی کا نتیجہ ہیں۔وہ تو محض اس بات کے مدعی ہیں کہ جینز کے تحت ہونے والی تمام جسمانی تبدیلیوں کا بالآخر ذمہ دار انتخاب طبعی کا عمل ہے۔انتخاب طبعی کے ماتحت جب بعض جسمانی تبدیلیاں مقصود