الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 476
454 وقت کا اندھا ، بھرہ اور گونگا خالق رات اور رات کو دن قرار دے دینا زیادہ قرین قیاس ہوگا۔اس سارے معاملہ کی تان تو ڈاکنز کے عدم یقین پر ٹوٹتی ہے۔ان کے نزدیک ایک معمولی بوئنگ 747 کا خود بخود معرض وجود میں آنا تو نا قابل یقین ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ کا ئنات کا کسی خالق کے بغیر وجود میں آنا ان کے لئے ایک معمولی بات ہے۔اس مخصہ سے نجات پانے کے لئے اور وجود باری کے متعلق اپنے تعصب کو چھپانے کیلئے وہ قدرت کی پیچیدگیوں کی پناہ ڈھونڈتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہ تو محض ضعیف الاعتقاد مذہبی لوگوں کے تو ہمات ہیں۔لیکن ایسا کرنے سے قبل بہتر ہوتا کہ وہ بوئنگ 747 بنانے والوں کے وجود کو بھی اپنے ذہن کا واہمہ قرار دے کر مستر د کر دیتے۔کیونکہ جو دلیل وہ خدا تعالی پر ایمان لانے والوں کے خلاف دیتے ہیں وہی دلیل زیادہ شدت سے ان کے اپنے خلاف جاتی ہے۔اگر ایک سادہ سے کمپیوٹر کا خود بخود وجود میں آنا ممکن نہیں تو بوئنگ 747 کا خود بخود بن جانا تو اور بھی زیادہ ناممکن ہے۔لیکن اس کے باوجود وہ ان ناممکنات پر ایمان رکھتے ہیں۔ان کا اعتقاد ہے کہ انسان کی بنائی ہوئی چیزیں اپنے پیچیدہ ہونے کی وجہ سے اس حقیقت کا تقاضا کرتی ہیں کہ ان کو بالا رادہ بنانے والا کوئی دماغ موجود ہے۔لیکن جب قدرت کی صناعی کی بات ہوتی ہے تو کسی باشعور خالق ہستی کے انکار سے بچنے کیلئے وہ اس تخلیق کی پیچیدگی کو محض واہمہ قرار دے دیتے ہیں۔اگر پروفیسر ڈاکنز کے نزدیک کسی بوئنگ 747 کا خود بخود بن جانا ناممکن ہے تو زندگی کا خود بخود وجود میں آجانا کہیں زیادہ ناممکن سمجھا جانا چاہئے۔ان کا یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ پہلے ہی سے انکار پر تلے بیٹھے ہیں۔پروفیسر ڈاکنز کو چاہئے تھا کہ وہ اپنے دعوئی کے ساتھ ساتھ فریق ثانی کے نظریہ کی وضاحت بھی اسی منطقی طرز پر کرتے جو انہوں نے خود اپنے خیالات کی وضاحت کیلئے استعمال کی ہے۔اپنے دعوی کی تائید میں ان کی واحد دلیل ہے کہ : ارتقائی عمل کے تحت ہونے والی تبدیلی کیلئے جس قدر لمبے عرصہ کی ضرورت ہے ہمارا ذہن اس کا تصور ہی نہیں کر سکتا۔“ بالفاظ دیگر ان کا مطلب یہ ہے کہ بوئنگ 747 کے بنے کیلئے جس قدر وقت درکار ہے اس • دوران تو ہونے والی تبدیلیوں کا ہمیں فطرتی طور پر علم ہوتا ہے۔لیکن ہم ثابت کر سکتے ہیں کہ ان کی