الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 433 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 433

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 419 خلاصہ ہے جو قرآن کریم میں حیات بعد الموت کے بارہ میں انسانی شکوک کے موضوع پر پائی جاتی ہیں۔لیکن یہ تو مزید تحقیق کے لئے محض ایک تمہید ہے جسے بجائے خود حیات بعد الموت پر دلیل قرار نہیں دیا جاسکتا۔بلکہ اس سے مراد صرف یہ ہے کہ اس بارہ میں شک وشبہ کا کوئی جواز نہیں ہے۔قرآن کریم انسان کو یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ اسے شعور کا جو بلند مقام حاصل ہے وہ اس کیلئے تاریکی کی بجائے روشنی کے حصول کا ذریعہ ہونا چاہئے۔انسان کو اپنے ماحول سے جو آگاہی اور اس سے ماوریٰ کا جو ادراک حاصل ہے اس کے نتیجہ میں اسے اپنے خالق کی ہستی کا قائل ہونا چاہئے جس سے وہ سرکشی اختیار کرتا ہے۔لیکن اگر اس کا خدا کی ہستی پر ایمان ہے تو پھر آخرت کا انکار تحیر واستعجاب کے نتیجہ میں ہی ممکن ہے یعنی یہ سوچ کہ ایسی حیرت انگیز بات سچ کیسے ہوسکتی ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان کی پہلی پیدائش دوسری پیدائش سے کہیں زیادہ حیران کن اور نا قابل یقین ہے۔اب ہم استخراجی دلیل کا جائزہ لیتے ہیں جس کو بنیاد بنا کر قرآن کریم یہ اعلان فرماتا ہے کہ اس دنیا میں انسان کیلئے عالم آخرت کا براہ راست مشاہدہ ممکن نہیں۔انسان کے نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو موت سے آگے عدم محض کے سوا کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا۔ذرا انسان کی دانائی تو دیکھئے ! وہ اس بات کو تو بلا حیل و حجت مان لیتا ہے کہ وہ عدم سے وجود میں آیا ہے لیکن جب اسے بتایا جاتا ہے کہ اسے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا تو وہ اس خیال کو غیر معقول اور لغو قرار دے کر رد کر دیتا ہے۔اس موازنہ کو بنیاد بنا کر جو دلیل پیش کی گئی ہے وہ اتنی قطعی اور مستند ہے کہ اس کے ادراک کیلئے کسی فلسفیانہ دماغ کی ضرورت نہیں ہے۔چنانچہ حیات بعد الموت کی تردید کے خلاف انسان کے اپنے وجود سے بڑھ کر اور کوئی گواہ نہیں۔اس سلسلہ میں قرآن کریم منکرین کے نقطہ نظر کو نہایت معین اور واضح انداز میں بیان کر کے اس کی تردید کرتا ہے۔اس ضمن میں چند ایک آیات درج ذیل ہیں: وَقَالُوا مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ وَمَا لَهُمْ بِذلِكَ مِنْ عِلْمٍ ۚ إِنْ هُمُ إِلَّا يَظُنُّونَ ( الجاثية 25:45) ترجمہ: اور وہ کہتے ہیں یہ ( زندگی ) ہماری دنیا کی زندگی کے سوا کچھ نہیں۔ہم مرتے بھی ہیں