الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 432 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 432

418 کرۂ ارض پر زندگی کا مستقبل کرتے ہیں جس سے مراد تمام بنی نوع انسان کا خاتمہ لیا جاتا ہے اور درحقیقت دیگر صحف مقدسہ میں بھی قیامت کا لفظ انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔اگر چه دیگر مذاہب کے پیروکار قیامت کی تشریح کرتے وقت کائنات کا کلیۂ خاتمہ مراد لیتے ہیں لیکن قرآن کریم یہ اصطلاح پورے طور پر ان معنوں میں استعمال نہیں کرتا۔قرآن کریم کی رو سے زمین اس وسیع و عریض کائنات کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔کسی عظیم حادثہ کے نتیجہ میں کرہ ارض سے زندگی کا کلیہ خاتمہ تو ممکن ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پوری زمین ہی صفحہ ہستی سے مٹ جائے یا یہ کہ کائنات کی سرے سے صف ہی لپیٹ دی جائے گی۔اس بحث کو مزید آگے بڑھانے سے قبل ہم اس باب میں کرہ ارض پر انسان کے مستقبل یا کائنات میں کسی اور جگہ پائی جانے والی حیات کا قرآنی آیات کی روشنی میں مختصر جائزہ لیتے ہیں۔قرآن کریم کی بعض آیات میں قیامت کے بعد اسی دنیا میں بعض واقعات کے رونما ہونے کا ذکر ہے۔ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد انسان ایک نئی ہیئت کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔پھر کچھ ایسی آیات ہیں جو قیامت کے بعد رونما ہونے والے واقعات کا ذکر کرتی ہیں جن کا آخرت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ آیات واضح طور پر اسی زمین پر ایک ایسے مسلسل ارتقا کا منظر پیش کرتی ہیں جو انسان سے اعلیٰ و ارفع انواع حیات کی تخلیق پر منتج ہو گا۔اس مؤخر الذکر تصور کو حیات بعد الموت کے تصور سے خلط ملط نہیں کرنا چاہئے۔اب ہم اخروی زندگی سے تعلق رکھنے والی ایسی آیات کا جائزہ لیتے ہیں جو ان آیات سے مختلف ہیں جن میں زمین پر مکمل طور پر ایک مختلف ہیئت اور فہم و ادراک رکھنے والی زندگی کے امکان پر بحث کی گئی ہے۔ایسے لوگ جو حیات بعد الموت کے بارہ میں شک میں مبتلا ہیں، انہیں متتبہ کرتے ہوئے قرآن کریم فرماتا ہے کہ انہیں اخروی زندگی سے زیادہ اس کرہ ارض پر اپنے وجود کے متعلق شک ہونا چاہئے۔جس امر کا انہیں کامل یقین ہے وہ ان کا عدم سے وجود میں آتا ہے اور یہ کہ ان کی ہستی سے قبل نیستی تھی۔پس جب انہیں عدم سے وجود میں لایا جا سکتا ہے تو پھر وہ اپنی دوبارہ تخلیق پر شک میں کیوں مبتلا ہیں؟ کیونکہ عدم سے وجود میں آنے کی نسبت موجودہ حالت سے دوبارہ پیدا کئے جانے کا مفروضہ منطقی اعتبار سے زیادہ قرین قیاس ہے۔یہ ان بہت سی آیات کا