الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 434 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 434

420 کرۂ ارض پر زندگی کا مستقبل اور زندہ بھی ہوتے ہیں اور زمانہ کے سوا اور کوئی نہیں جو ہمیں ہلاک کرتا ہو۔حالانکہ ان کو اس بارہ میں کچھ بھی علم نہیں۔وہ تو محض خیالی باتیں کرتے ہیں۔بدكُمُ الكُمُ اذَا مِتُّم وكُنتُمْ تُرَابًا وَعِظَامًا الكم مُّخْرَجُونَ لا حَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لِمَا تُوعَدُونَ إِنَّ هِيَ إِلَّا حياتنا الدنيا نموتُ وَنَحْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُونِينَ (المومنون (36:23-38) ترجمہ: کیا تمہیں یہ اس بات سے ڈراتا ہے کہ جب تم مر جاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جاؤ گے تو تم نکالے جاؤ گے۔دور کی بات ہے، بہت دور کی بات ہے جس کا تم وعدہ دیئے جاتے ہو۔ہماری تو صرف یہی دنیا کی زندگی ہے۔ہم مرتے بھی ہیں اور زندہ بھی رہتے ہیں اور ہم ہرگز اُٹھائے نہیں جائیں گے۔وَيَقُولُ الْإِنسَانُ إذَا مَا مِثْ لَسَوْفَ أَخْرَجُ حَيًّان ( مريم 67:19) ترجمہ: اور انسان کہتا ہے کیا جب میں مر جاؤں گا تو پھر زندہ کر کے نکالا جاؤں گا؟ وَأَقْسَمُوا بِاللهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَا يَبْعَثُ اللَّهُ مَنْ يَمُوتُ بَلى وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي يَخْتَلِفُوْنَ فِيْهِ وَلِيَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّهُمْ كَانُوا كَذِبِينَ (النحل (39:16-40) ترجمہ: اور انہوں نے اللہ کی پکی قسمیں کھائی ہیں کہ اللہ اسے پھر کبھی نہیں اٹھائے گا جو مر جائے گا۔کیوں نہیں! یہ ایسا وعدہ ہے جسے پورا کرنا اس پر واجب ہے۔لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔تا کہ وہ ان پر وہ چیز خوب کھول دے جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے اور تا کہ وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا جان لیں کہ وہ جھوٹے ہیں۔وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَلي خَلَقَهُ قَالَ مَنْ يُحْيِ الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيم۔( يس 79:36)