الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 392
382 نظرية انتخاب طبعی اور بقائے اصلح ہیں۔دوسری مکڑیوں کی نسبت ان کا حجم غیر معمولی طور پر بڑا ہوتا ہے حتی کہ فقاریہ (Vertebrates) بھی ان کے سامنے بالکل معمولی دکھائی دیتے ہیں۔اگر ان کو بہت زیادہ اشتعال دلایا جائے تو وہ انسان پر حملہ کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گی۔چھوٹے چھوٹے پالتو پرندے، حشرات الارض، جل تھلئے بھنورے، پروانے اور جھینگر ان کی بنیادی خوراک ہیں۔تاہم ضرورت پڑنے پر یہ دوسری مکڑیوں کو بھی ہڑپ کر جاتی ہیں۔علاوہ ازیں چیونٹیاں کھانے والی مکڑیاں بھی ہیں جو ترن تلا کے مقابلہ میں حقیر دکھائی دیتی ہیں۔ان کا حجم عام چیونٹیوں سے جن کا یہ شکار کرتی ہیں زیادہ نہیں ہوتا۔خالق نے انہیں کیموفلاژ کا اتناز بر دست ملکہ عطا کیا ہے کہ چیونٹیوں کو اس مہلک اجنبی مخلوق کی اپنے اندر موجودگی کا ذرہ برابر بھی شک نہیں ہوتا۔وہ چیونٹیوں ہی کی طرح دکھائی دیتی ہیں اور ان کی حرکات وسکنات بھی چیونٹیوں جیسی ہوتی ہیں۔ان پر جیسا دیس ویسا بھیس والا مقولہ پوری طرح صادق آتا ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ وہ اپنے آپ کو چیونٹیوں جیسا خیال نہیں کرتیں۔یہ کیسے ممکن ہے کہ محض اندھے اتفاقات کے اجتماع سے اس حیرت انگیز کیموفلا ثر نے جنم لیا اور آخر کتنے عرصہ میں بے مقصد جینیاتی تغیرات نے اس شاہکار کو نقطہ کمال تک پہنچا دیا۔یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب ماہرین ارتقا کے ذمہ ہے۔یقینا یہ توقع رکھی جاسکتی ہے کہ اس بات کی کوئی توجیہ پیش کی جائے گی کہ انتخاب طبعی کا عمل چیونٹیوں کا شکار کرنے والی مکڑیوں میں کیسے کارفرمارہا؟ قبل اس کے کہ نام نہاد ارتقائی عوامل کے بے مقصد پیچ وخم کے نتیجہ میں ایک ماہر شکاری وجود میں آئے ناقص شکاریوں کی لاکھوں کروڑوں نسلیں پیدا ہو ئیں اور مٹ گئی ہوں گی۔مکڑیوں کی ایک اور پُر اسرار نوع ایٹی پس (Alypus) کے نام سے مشہور ہے۔جب سے ڈبلیو۔ای۔بیچ (W۔E۔Leach) نے اسے 1816 ء میں دریافت کیا یہ مکڑیاں ماہرین حیوانات کیلئے دلچسپی کا باعث بنی رہی ہیں۔جس زمانہ میں جاسوسی ناول نگاروں نے بند کمروں کی پر اسرار داستانوں کو لکھنا شروع کیا اس سے بہت پہلے قدرت نے ٹریپ ڈور trapdoor مکڑی کی اس ماده نوع کو کامل حالت میں پیدا کر کے بند کمروں کے پر اسرار راز کا ایک زندہ شاہکار تخلیق کر دیا