الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 391
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 381 اب ہم۔هم قطبی علاقوں سے غیر قطبی علاقوں کی طرف آتے ہیں۔بڑے بڑے برفانی ریچھوں کے مقابلہ میں ایک ننھی سی مکڑی تصویر کا دوسرا نہایت دلچسپ رخ پیش کرتی ہے۔قطبی علاقوں کے علاوہ عملاً دنیا میں ہر جگہ مکڑیاں پائی جاتی ہیں لیکن منطقہ حارہ کے جنگلوں میں ان کی ایسی کثرت اور فراوانی دیکھنے میں آئی ہے جو کہیں اور نظر نہیں آتی۔ان کا مسکن صرف بارانی جنگلات ہی میں نہیں بلکہ شدید ترین موسمی حالات میں بھی ان میں زندہ رہنے کی حیرت انگیز صلاحیت پائی جاتی ہے۔وہ نہ صرف پہاڑوں کی چوٹیوں پر بلکہ گہرے کھڈوں اور غاروں میں بھی زندہ رہتی ہیں۔3 مکڑیوں کی معلوم انواع کی تعداد کم از کم 30 ہزار ہے۔لیکن بعض کے نزدیک یہ تعداد دوگنی بھی ہو سکتی ہے۔مکڑیوں کی تمام اقسام جال انہیں بنتیں۔آدمی اقسام جالا فتی ہیں اور باقی با وجود ریشمی دھاگہ پیدا کرنے کے اپنے شکار پر حیرت انگیز رفتار کے ساتھ بچا مثلا حملہ کرتی ہیں۔جالا بننے والی مکڑیاں ہمیشہ کیڑے مکوڑوں کا شکار کرتی ہیں جبکہ دوسری مکڑیاں نسبتاً بڑے جانوروں پر حملہ کر کے انہیں ختم کر سکتی ہیں۔ضمناً یا درہے کہ پچھلی صدی میں ایک ماہر حیاتیات نے اندازہ لگایا تھا کہ مکڑیاں تقریباً اتنے کیڑے مکوڑے ہڑپ کر جاتی ہیں جن کا عمومی وزن تمام انسانی آبادی کے وزن سے بھی زیادہ ہے۔اصل موضوع کی طرف لوٹتے ہوئے ہم قاری کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ مختلف انواع کی بود و باش میں جتنا زیادہ فرق ہوگا اتنا ہی ماہرین ارتقا کیلئے ہر نوع کی ارتقائی تاریخ کا کھوج لگانا مشکل ہوتا چلا جائے گا۔وہ کونسے قدرتی عوامل تھے جنہوں نے لاکھوں سالوں پر محیط ان کے ارتقا کے اس سفر میں رہنمائی کی اور یہ کیسے ممکن ہوا؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر نوع اتفاقا اس مقام پر پہنچی ہے جس پر وہ آج پائی جاتی ہے۔قاری کی دلچسپی کیلئے ہم یہاں چند مثالیں پیش کرتے ہیں جن سے پتہ چلے گا کہ مکڑیوں کی مختلف انواع میں کس قدر تنوع پایا جاتا ہے۔بعض مکڑیاں بھیڑیا نما ہیں جو بھیڑیے کی سی درندگی سے شکار کرتی ہیں اور کچھ شکاری مکڑیاں ہیں جن کی رفتار حیرت انگیز طور پر بہت تیز ہوتی ہے اور بعض مکڑیاں ایسی بھی ہیں جو پرندوں کو اپنی خوراک بناتی ہیں اور ترن تلا (Tarantula) کہلاتی