الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 370 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 370

364 قدرت میں سمت پزیری یا کائریلیتی کے متعلق پیشنگوئیوں میں دائیں بازو اور بائیں بازو کی اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں۔چنانچہ عصر حاضر کی سیاسی اور معاشی تقسیم جو دائیں بازو یا بائیں بازو کے فلسفوں پر مبنی ہے انسانیت کے مستقبل کے بارہ میں قرآنی پیشگوئیوں کے عین مطابق ہے۔سوال یہ ہے کہ سمت کی اہمیت پر صرف اسلام ہی کیوں اس قدر زور دیتا ہے جبکہ دیگر الہامی مذاہب اس کا ذکر تک نہیں کرتے ؟ اس کے جواب میں یہ بات مد نظر رہے کہ قرآن کریم کی رو سے ظہور اسلام کے ساتھ ہی دیگر تمام مذاہب کا دور ختم ہو گیا۔اسلام سے پہلے انسانی معاملات میں قطبیت اور سمت پذیری کا ابھی تصور ہی پیدا نہیں ہوا تھا۔دراصل اسلام ہی وہ مذہب ہے جسے ایسے دور کے لوگوں سے مخاطب ہونا تھا جس میں قطبیت اور سمت پذیری کی اصطلاحیں عام استعمال میں آنے والی تھیں۔اس لحاظ سے روز مرہ کی زندگی میں سمت کا تعین اپنے اندر ایک پیشگوئی کا رنگ رکھتا ہے کہ انسان اس ترقی یافتہ دور میں داخل ہونے والا ہے جس میں سمت کے گہرے معانی کھلیں گے اور نئی نئی جہات دریافت ہوں گی۔چنانچہ آج ہم یہی کچھ دیکھ رہے ہیں۔اُس دور کا انسان کب یہ جانتا تھا کہ نہ صرف سیاست اور معیشت بلکہ سائنس میں بھی سمت اتنی اہمیت اختیار کر جائے گی جس کا اس سے پہلے تصور بھی ممکن نہ تھا۔حوالہ جات 1۔FESSENDEN, R۔J۔, FESSENDEN, J۔S۔(1982) Organic Chemistry۔2nd ed۔PWS Publishers۔Willard Grant Press۔Massachusetts, p۔139 2۔HEGSTROM, R۔A۔, KONDEPUDI, D۔K۔(January, 1990) The Handedness 98-99 of the Universe۔Scientific American: pp۔3۔HEGSTROM, R۔A۔, KONDEPUDI, D۔K۔(January, 1990) The Handedness of the Universe۔Scientific American: p۔99