الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 369 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 369

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 363 تعلق شاید پوری طرح واضح نہ ہوا ہو۔اس لئے اس کی کچھ مزید تشریح مناسب ہوگی۔قبل ازیں بیان ہو چکا ہے کہ مذاہب عالم میں صرف اسلام ہی ہے جو مذہبی زندگی میں سمت کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ہم پورے احترام سے قارئین کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ تمام مذاہب میں دائیں (Right) کے بالمقابل بائیں (Left) کا مطلب غلط (Wrong) اور دائیں کا درست (Right) کیا جاتا ہے۔اسلام میں دائیں کو صرف اچھائی کے معنوں میں ہی استعمال نہیں کیا گیا۔بلکہ ظاہری معنوں میں اسے سمت کو ظاہر کرنے کیلئے بھی استعمال کیا گیا ہے۔اس تعلق میں درست کی اصطلاح غلط کے بالمقابل استعمال نہیں کی گئی بلکہ واضح طور پر دائیں (Right) کو بائیں (Left) کے الله بالمقابل استعمال کیا گیا ہے۔جس سے سمت مراد ہے۔بہت سی آیات قرآنی میں دائیں کو بائیں پر واضح طور پر ترجیح دی گئی ہے۔آنحضور ﷺ نے مومنوں کے لئے دائیں کو بائیں پر ترجیح دینے کی تعلیم ضرور انہی قرآنی آیات سے حاصل کی ہوگی۔آپ ﷺ کا یہ طریق تھا کہ آپ ﷺ ہمیشہ ہر اچھا کام دائیں ہاتھ سے یا دائیں طرف سے شروع فرماتے تھے۔مثلاً وضو کرتے وقت پہلے دایاں ہاتھ دھونے کا حکم ہے اسی طرح جوتا پہنتے وقت دایاں پاؤں پہلے ڈالنے کا ارشاد ہے۔مہمانِ خصوصی میزبان کے دائیں طرف بیٹھتا ہے۔جب کسی مسلمان کے ہاں بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہمیشہ دائیں کان میں اذان دی جاتی ہے اور بائیں کان میں تکبیر کہی جاتی ہے۔یہ ہدایات یونہی اتفاقا نہیں دے دی گئیں بلکہ ان کی بہت باریک اور معین تفاصیل بیان کی گئی ہیں۔آپ ﷺ کی ہدایات اور ذاتی مثالوں کے حوالہ سے مسلمانوں کو ارشاد ہے کہ وہ صاف ستھری چیزوں کو دائیں ہاتھ سے چھوئیں جبکہ باقی کام بائیں ہاتھ کیلئے چھوڑ دیئے گئے ہیں۔چنانچہ جب ایک مسلمان دوسرے سے ہاتھ ملاتا ہے تو پورے اعتماد کے ساتھ یہ توقع کی جاتی ہے کہ اس کا ہاتھ صاف ستھرا ہے۔ایسی ہدایات واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ مذہبی اور معاشرتی امور میں سمت کی اہمیت کو باقاعدہ اسلامی تعلیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ان معنوں میں بھی انسانیت کے مستقبل