الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 371 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 371

نظریۂ انتخاب طبیعی اور بقائے اصلح ارتقائے حیات کے ہر مرحلہ پر اہم فیصلے کرنے کا ذمہ دار کون ہے؟ قرآن کریم نے اس کا جواب درج ذیل آیات میں دیا ہے۔تبْرَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ الَّذِي ان خَلَقَ المَوت والحيوة لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمُوتِ طِبَاقًا مَا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفُوتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ فطوره ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبُ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِنا وهو خيره الملك 2:67-5) ترجمہ بس ایک وہی برکت والا ثابت ہوا جس کے قبضہ قدرت میں تمام بادشاہت ہے اور وہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔وہی جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے بہترین ہے۔اور وہ کامل غلبہ والا ( اور ) بہت بخشنے والا ہے۔وہی جس نے سات آسمانوں کو طبقہ در طبقہ پیدا کیا۔تو رحمان کی تخلیق میں کوئی تضاد نہیں دیکھتا۔پس نظر دوڑا۔کیا تو کوئی رخنہ دیکھ سکتا ہے؟ نظر پھر دوسری مرتبہ دوڑا، تیری نظر نا کام لوٹ آئے گی اور وہ تھکی ہاری ہوگی۔اگر خدا کا وجود نہ ہوتا تو یہ ممکن نہ تھا کہ زندگی کا سفر ہمیشہ بامقصد طور پر ایک ہی سمت میں جاری رہتا۔ارتقا کے ہر مرحلہ پر مشکلات سے پُر اور بے مقصد امکانات کا ایک وسیع جال بچھا ہوا تھا۔راستہ میں بے شمار مشکلات حائل تھیں، جن میں سے زندگی کو اپنا راستہ بنانا تھا۔ہر نازک موڑ پر 365