الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 362
356 قدرت میں سمت پزیری یا کائریلینی ڈوبتے چلے جاتے ہیں۔سمت کے تعین کے بارہ میں کوئی معروف سائنسی قاعدہ موجود نہیں ہے۔قدرت ایک حصہ کو دوسرے پر کیوں ترجیح دے رہی ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ابھی تک نہیں مل سکا اور شاید آئندہ کئی دہائیوں تک مل بھی نہ سکے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ قرآن کریم کے مطابق ہر قدرتی عمل کی معقولی رنگ میں وضاحت ممکن ہے اور قرآن کریم بڑی وضاحت سے کسی ایسی تخلیق کا انکار کرتا ہے جو کسی اتفاق یا حادثہ کا نتیجہ ہو۔آج نہیں تو کل وہ وقت دور نہیں جب سائنسدان اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ قدرت میں سمت کے تعین کی وجوہات معلوم کر سکیں۔آگے چلنے سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ سمت کا تعین قدرت میں کس طرح کارفرما ہے۔یہ بات جسمانی تربیت حاصل کرنے والے بچوں کے ان اجتماعی مظاہروں سے بآسانی سمجھی جاسکتی ہے جن میں ان کی تربیت کی خوبی کو پیش کیا جاتا ہے۔کچھ بچوں کو دوگروپوں میں تقسیم کر کے دائرہ کی شکل میں کھڑا کر دیا جائے۔پھر ان میں سے ایک گروپ کو بائیں سے دائیں اور دوسرے کو دائیں سے بائیں طرف گھمایا جائے۔اس کو مزید واضح کرنے کیلئے اگر ان گروپوں کو جوڑوں کی شکل میں اس طرح تشکیل دیا جائے کہ جوڑے کا ایک حصہ اگر ایک سمت میں گھومے تو دوسرا مخالف سمت میں گھومے گا۔اس طرح کے گروپوں کے جوڑے کا تصور کریں تو آپ پر سمت کے تعین کے معنی سائنسی اصطلاح کے اعتبار سے واضح ہو جائیں گے۔باہمی مطابقت کے باوجود ایک طرف گھومنے والے گروپ کو مخالف سمت میں گھومنے والے گروپ پر منطبق نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کی حرکت مخالف سمت میں ہے۔اسی طرح اگر چہ تمام مالیکیولز گھومتے ہیں مگر سب ایک ہی سمت میں نہیں بلکہ بعض دائیں سے بائیں طرف گھومتے ہیں اور بعض مخالف سمت میں۔بعینہ ایک ہی کیمیائی فارمولہ کے حامل بعض مرکبات کے محلول میں دونوں سمتوں میں گھومنے والے مالیکیولز اکٹھے موجود ہوتے ہیں۔جبکہ بعض مرکبات میں تمام مالیکیولز ایک ہی سمت میں حرکت کر رہے ہوتے ہیں۔صرف مالیکیولز میں ہی نہیں بلکہ ایٹم سے بھی چھوٹے ذرات میں سمت کا تصور پایا جاتا ہے۔کائنات میں سمت کی اہمیت کا علم آج سے تقریبا ڈیڑھ سو سال پہلے ہوا۔عظیم فرانسیسی سائنسدان لوئی پاسچر (Louis Pasteur) نے 1848 ء میں اسے اس کی مالیکیولز کی گردش میں