الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 361
قدرت میں سمت پذیری یا کا ئریلیٹی سمت پذیری (Chirality) کیا ہے؟ کیا اس کی کوئی اہمیت ہے؟ اور پھر یہ کہ کیا اس پر غور کرنے کی کوئی ضرورت ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کی طرف اب ہم متوجہ ہوتے ہیں۔ایک دائرہ میں خواہ دائیں سے بائیں یا بائیں سے دائیں سمت میں حرکت کی جائے ، اس بات سے کوئی بھی فرق نہیں پڑتا کہ اس گردش کا آغاز کس سمت سے ہوا ہے؟ ہم کوئی چیز اپنے دائیں ہاتھ سے اٹھا ئیں یا بائیں ہاتھ سے، جتنی دیر تک ہم نے اسے اٹھا رکھا ہے دائیں یا بائیں کے سوال کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔لیکن اگر ہم دائیں یا بائیں میں پوشیدہ حکمت کو سمجھتے ہیں تو پھر یہ سوال یقینا اہم ہو جائے گا۔لیکن حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات اور قانونِ قدرت کے بعض مظاہر سے یوں لگتا ہے کہ سمت کو بلا وجہ ترجیح دی گئی ہے۔حیات قرآنی آیات کی روشنی میں“ کے باب میں ہم نے بالاختصار قرآن کریم کی متعدد ایسی آیات کا ذکر کیا ہے جن میں مذہبی نقطہ نظر سے سمت کی اہمیت کا بیان ہے۔بہت سی احادیث میں اسی قرآنی طرز فکر کی مزید تشریح کی گئی ہے جن میں مومنوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ کس طرح روز مرہ کی سماجی اور مذہبی زندگی بسر کریں اور ان تعلیمات میں معین طور پر دائیں کو ہا ئیں پر ترجیح دی گئی ہے۔دائیں بائیں جیسے بظاہر معمولی اور چھوٹے امور کی مذہبی تعلیمات میں اس قدر اہمیت واقعی ایک حیران کن بات ہے لیکن جب ہم نظام قدرت میں ہر جگہ سمت کی اہمیت کو دیکھتے ہیں تو یہ معمہ اور بھی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔مذہبی تعلیمات کا سر چشمہ ہمیشہ الہام الہی ہوا کرتا ہے یا پھر کوئی باشعور انسانی ذہن۔سیکولر سائنسدان کسی ایسے مدبر بالا رادہ خالق کے قائل نہیں جس نے نظام قدرت کی باضابطہ تشکیل کی ہو تو پھر قدرت اور مذہب میں سمت کے لحاظ سے یہ حیران کن مشابہت کیسی؟ اگر ان کا سرچشمہ مشترک نہیں تو کیا اسے محض ایک اتفاق قرار دے کر مسترد کیا جاسکتا ہے؟ لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی۔جتنا ہم قدرت میں سمت کی اہمیت کا مطالعہ کرتے ہیں اتنا ہی حیرت میں 355