الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 337
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 331 واٹسن (Watson) کے مطابق DNA عمل انگیز لحمیات یا خامرات کے بغیر اپنے جیسا مزید DNA تیار نہیں کر سکتا۔الختصر، نہ تو لحمیات DNA کے بغیر جنم لے سکتی ہیں اور نہ ہی DNA لحمیات کے بغیر وجود میں آسکتا ہے۔زندگی کی ابتداء کے بارہ میں غور و فکر کرنے والوں کو یہاں بھی مرغی اور انڈے جیسا ایک معمہ در پیش ہے کہ پہلے کیا چیز وجود میں آئی۔لحمیات یا DNA؟ اس مشکل سے جان چھڑانے کیلئے بعض سائنسدان تجویز کرتے ہیں کہ DNA اور لحمیات نے الگ الگ متوازی طور پر ارتقا کے مراحل طے کئے یہاں تک کہ آگے چل کر دونوں کے ایک دوسرے پر انحصار کرنے کا دور شروع ہوا۔بظاہر تو یہ ایک حیرت انگیز تجویز ہے لیکن بغور جائزہ لیا جائے تو نہ تو اس میں ذہانت کا کوئی عنصر دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی عقلمندی کا کوئی شائبہ۔انہوں نے اس حقیقت سے آنکھیں چرائیں کہ دونوں کا الگ الگ ارتقا کیسے ممکن ہوا اور وہ کیسے باہم متوازی سمت میں چلتے رہے۔جبکہ ہر مرحلہ پر ان کی بقا کا دارو مدار با ہم ایک دوسرے کے بغیر ناممکن تھا۔یہ تو ہو نہیں سکتا کہ تمام ممکنات کے محض اتفاقیہ طور پر اکٹھا ہونے کے نتیجہ میں یہ عمل ہوا اور اس طرح بظاہر ایک ناممکن بات ان تجربہ کار سائنسدانوں کی نگرانی کے بغیر ہی ممکن ہوگئی ہو۔ان سائنسدانوں کو مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کیلئے جدید سامان سے آراستہ سائنسی لیبارٹری کی ضرورت تو تھی لیکن مذکورہ معمہ ماحول کو کنٹرول کئے بغیر خود بخود کیسے معرض وجود میں آگیا ؟ جن لوگوں نے یہ تجربات کئے انہوں نے RNA سے لحمیات اور خامروں کی غیر موجودگی میں مزید RNA بنانے کی کوشش کی جبکہ لحمیات اور خامروں کی غیر موجودگی میں RNA خود مزید RNA نہیں بنا سکتا۔لیکن انہیں اس بات کا اقرار کرنا پڑا کہ اس مشکل سوال کے حل کرنے کی کوشش میں ان کی کامیابی دراصل کوئی کامیابی نہیں ہے۔ہارمن (Horman) تسلیم کرتا ہے کہ یہ سائنسی تجربات اتنے پیچیدہ ہیں کہ یہ آغاز حیات کے کسی بھی قابل قبول حل کی نمائندگی نہیں کرتے۔چنانچہ آرگل (Orgel) نے ان تجربات کے بعد تسلیم کیا کہ : ان تجربات میں بے شمار امور کی کلمبیا درست حالت میں موجودگی اور کسی بھی غلطی کے امکان کی عدم موجودگی نہایت ضروری ہے۔566 وہ اور ہار گن اس بات پر متفق ہیں کہ لیبارٹری کے انتہائی محتاط حالات میں ان کی کامیابی