الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 336 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 336

330 ارتقا میں چکنی مٹی اور ضیائی تالیف کا کردار اس باب کے اختتام سے قبل ہم چند اور مثالوں سے واضح کرنا چاہتے ہیں کہ سائنسدان زندگی کے از خود وجود میں آنے کے نظریہ کے بارہ میں کتنی مشکلات کا شکار ہیں۔کیمیائی ارتقا نے کروڑوں چھوٹے چھوٹے نظر نہ آنے والے مراحل میں سے اپنا راستہ بنایا۔اس چیلنج کو سمجھنے کیلئے صرف اتناہی کافی نہیں ہے کہ یہ اندازہ لگایا جائے کہ ہر کیمیائی قدم ایک خاص سمت میں کیسے اٹھایا گیا اور اس دوران اس پر کیا کیا قدرتی اثرات مرتب ہوئے۔بلکہ اس بات کا اندازہ لگانا اور بھی دشوار ہے کہ مذکورہ کیمیائی مراحل یکے بعد دیگرے کس طرح ایک موزوں اور منظم ترتیب سے ایک لڑی کی صورت میں اس طرح پر وئے گئے کہ ہر جزو اپنی اپنی مناسب جگہ اور مقام پر موجود ہے۔کسی سائنس دان کے لئے یہ کہنا کتنا آسان ہے کہ bionts کے عمل تخمیر سے توانائی حاصل کرنے کا دور جب ختم ہوا تو ضیائی تالیف کا دور شروع ہو گیا۔مگر ایک دور کے خاتمہ اور دوسرے کے آغاز پر در پیش مسائل کا تصور کرنا اور ان کا حل تجویز کرنا بہت مشکل کام ہے۔ہر زندہ خلیہ میں فاسفورس کی موجودگی کا جواز پیش کرنا بھی ضروری ہے جو کہ ایک کمیاب عنصر ہے مزید برآں مالیڈیم (Molybdenum) کو ہی لے لیجئے اور اس قسم کے چند اور عناصر کو بھی جو بہت کمیاب ہیں مگر حیات کی تیاری میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ان سب کو شامل کر لینے سے معاملہ اور بھی گمبھر ہو جاتا ہے۔بعض سائنسدانوں نے تو اس کا یہ حل بھی تجویز کیا ہے کہ حیات کہیں باہر سے زمین پر آئی ہے کیونکہ فاسفورس اور مالیڈینم وہاں نسبتا زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں۔لیکن اس سوال کا جواب ابھی تک نہیں دیا گیا کہ اگر حیات باہر سے زمین پر آئی ہے تو اسے فاسفورس اور مالیڈینم اب تک کیسے مسلسل میسر آتے رہے؟ حیات ایسے غیر موافق ماحول میں بلا روک ٹوک کیسے نشوونما پاتی رہی جہاں اسے فاسفورس اور مالیڈینم جیسے ضروری عناصر بآسانی میسر نہ تھے؟ سائنسدانوں کو ایک اور مشکل یہ در پیش ہے کہ دو ایسے مظاہر قدرت بیک وقت موجود ہیں جن پر زندگی کے قیام اور تسلسل کا دارومدار ہے۔ہر زندہ خلیہ دو بنیادی صفات کا حامل ہوتا ہے۔ایک عمل تحول اور دوسر اعمل تولید مگر مشکل یہ ہے کہ نہ تو نیوکلیک ایسڈ کسی خامرہ کے بغیر وجود میں ہے اور نہ ہی کوئی خامرہ نیوکلیک ایسڈ کے بغیر پیدا ہو سکتا ہے۔کرک (Crick) اور آسکتا