الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 335
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 329 متعدد اقسام کی گیسوں کا مطلوبہ تناسب کے ساتھ زمین کی ابتداء ہی سے بنتے چلے جانا بجائے خود اپنے اندر ایسی پیچیدگیاں رکھتا ہے جو خصوصی توجہ کی متقاضی ہیں۔اسی پر بس نہیں بلکہ زمین کی فضا میں گیسوں کے تناسب کی ہر تبدیلی پر کیسے اور کیوں کا سوال ابھرتا ہے۔زمین کی فضا کا ساڑھے تین ارب سال تک آکسیجن کے بغیر رہنا محض حادثاتی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ان مشکلات میں اس امر کا اضافہ بھی کر لیا جائے کہ زمین پر آسمان سے مسلسل طاقتور تابکار شعاعوں کی ہونے والی بوچھاڑ بھی ابتدائی حیات کیلئے کتنی تباہ کن تھی تو اس سے درپیش مشکلات کا کچھ ادراک ہوسکتا ہے۔جب تک ان مضر اثرات سے بچنے کیلئے کوئی دفاعی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تب تک زمین پر کسی قسم کی حیات کی بقا کا کوئی امکان نہ تھا۔۔2 حیاتیاتی مرکبات مثلاً امینوایسڈ (Amino Acids)، نشاستہ اور نامیاتی بنیادیں (Organic Bases) پچاس کروڑ برس تک وجود میں آتی رہیں اور اس دور میں جو کچھ بھی ہوا وہ یقیناً بیشمار مشکلات کا شکار ہوا ہوگا۔3۔زندگی کے آغاز ہی میں ان مرکبات کا پانی میں آپس میں یوں جڑ کر ابتدائی لحمیات اور نیوکلیک ایسڈ (Nucleic Acid) کی لڑیوں کی شکل اختیار کرنا ایک فیصلہ کن مرحلہ تھا۔صرف اس مرحلہ کو سمجھنے کیلئے ہی کثیر تعداد میں ایسے سائنسدانوں کی ضرورت ہے جو اپنی ساری زندگی صرف اسی کام کیلئے وقف کر دیں۔پچاس سال سے زائد عرصہ کی گہری اور مسلسل تحقیق کے باوجود بھی سائنسدان تا حال اس معمولی سی گتھی کو سلجھانے میں کامیاب نہیں ہو سکے کہ پروٹین یعنی لحمیات کا ارتقا کیسے ہوا؟ بالفاظ دیگر یہ مسئلہ کہ مرغی پہلے پیدا ہوئی یا انڈہ، ابھی تک حل طلب ہے۔۔4 زندگی کی ابتداء میں ہالڈین (Holdane کے مجوزہ سوپ یا آمیزہ کی Protobionts میں تقسیم اور ہر جزو کی اپنی کیمیاوی ساخت اور پہچان کا ہونا بھی ایک بہت بڑا حل طلب مسئلہ ہے۔5۔آخری اہم بات یہ معلوم کرنا ہے کہ ابتدائی اجزائے زندگی میں نظام تولید کا اجراء کیسے ہوا۔کیونکہ نئے خلیوں میں ویسی ہی کیمیائی اور میٹا بولک (Metabolic) استعدادوں کا ہونا نہایت ضروری تھا جو ان کے پیشروؤں میں موجود تھیں۔