الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 334 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 334

328 ارتقا میں چکنی مٹی اور ضیائی تالیف کا کردار طرف رجوع کرتے ہیں تا کہ یہ جان سکیں کہ آسمانی صحائف کے مطابق زمانہ قبل از تاریخ میں کیا کیا واقعات ظہور پذیر ہورہے تھے۔اور زمین ویران اور سنسان تھی۔اور گہراؤ کے اوپر اندھیرا تھا اور خدا کی روح پانی کی سطح پر جنبش کرتی تھی۔اور خدا نے کہا کہ روشنی ہو جا اور روشنی ہو گئی۔اور خدا نے دیکھا کہ روشنی اچھی ہے۔اور خدا نے روشنی کو تاریکی سے جدا کیا اور خدا نے روشنی کو تو دن کہا اور تاریکی کورات۔اور شام ہوئی اور صبح ہوئی سو پہلا دن ہوا۔“ ( پیدائش 5-1:2) جیسا کہ مذکورہ بالا بیان سے ظاہر ہے اس روشن دن میں پہلی مرتبہ جو ابتدائی اجزائے حیات ظہور میں آئے زمین میں ان کے بیچ نکلنے کا امکان تو تھا لیکن کم۔لیکن بالآخر وہ دن ختم ہو گیا ہو گا اور دوسرے دن کے شروع ہونے سے قبل ضیائی تالیف کا عمل مکمل طور پر رک گیا ہوگا۔حیات کے ان سالموں نے آکسیجن کے بغیر اپنی پہلی رات کن مشکلات میں گزاری ہوگی، کیونکہ اتنا لمبا عرصہ تو ماہر یوگی بھی سانس نہیں روک سکتے۔چنانچہ اس شام ان بیچاروں پر روشنی کا نہیں بلکہ زندگی کا سورج غروب ہو گیا ہو گا۔اس تعلق میں یقینا کئی ایک تناظر پیش کئے جاتے ہیں۔قانونِ انتخاب طبعی (Natural Selection) کا ذکر بھی سرسری طور پر کر دیا جاتا ہے مگر کوئی ٹھوس حل پیش نہیں کیا جاتا۔یہ تو سائنسدانوں کے لئے ایک گھسا پٹا فرسودہ نعرہ بن کر رہ گیا ہے۔سائنسدانوں کا سامنا جب اس چیلنج سے ہوتا ہے کہ یہ بڑی بڑی اور پیچیدہ اشیاء حادثاتی طور پر کیسے ایک خوبصورت ترتیب کے ساتھ معرض وجود میں آگئیں تو شک کا فائدہ اٹھانے والے سائنسدان قانون انتخاب طبعی کے محاورہ کا سہارا لیتے ہیں۔ڈکرسن (Dickerson) نے چند ایسے سوالات اٹھائے ہیں جن کو وہ آج تک حل نہیں کر پائے۔ذیل میں ہم ڈکرسن (Dickerson) کے پیش کردہ پانچ مدارج کو اپنے الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔۔1 کسی سیارہ اور اس کی بیشمار اقسام کی گیسوں سے معمور فضا جن سے زندگی کی تخلیق ہوئی ہے کوئی اتنا سیدھا سادہ عمل نہیں جتنا کہ نظر آتا ہے۔