الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 306 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 306

حيات : وحئ قرآن کی روشنی میں تَخْلُقُوْنَةَ أَمْ نَحْنُ الْخَلِقُوْنَ نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ عَلَى أَنْ تُبَدِّلَ أَمْثَالَكُمْ وَنُنْشِئَكُمْ فِي مَا لَا تَعْلَمُونَ وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الأولى فَلَوْلَا تَذَكَّرُونَ أَفَرَءَ يُتُمْ مَّا تَحْرُثُونَ وَ أَنْتُمْ تَزْرَعُونَةٌ أَمْ نَحْنُ الزُّرِعُونَ لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُوْنَ إِنَّا لَمُغْرَمُونَ بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُوْنَ۔لا افَرَ يْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ : اَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَهُ أَجَاجًا فَلَوْ لَا تَشْكُرُونَ أَفَرَءَ يْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُوْرُونَ وَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ نَحْنُ جَعَلْنَهَا تَذْكِرَةً وَ مَتَاعًا لِلْمُقْوِينَ (الواقعه 58:56-74) ترجمہ: ہم نے ہی تمہیں پیدا کیا ہے۔پھر تم کیوں تصدیق نہیں کرتے ؟ بتاؤ تو سہی کہ جو نطفہ تم (رحم میں ) گراتے ہو، کیا تم ہو جو اسے پیدا کرتے ہو یا ہم پیدا کرنے والے ہیں؟ ہم نے ہی تمہارے درمیان موت کو مقدر کیا ہے اور ہم باز نہیں رکھے جا سکتے کہ تمہاری صورتیں تبدیل کر دیں اور تمہیں ایسی صورت میں اٹھا ئیں کہ تم اسے نہیں جانتے۔اور یقیناً پہلی پیدائش کو تم جان چکے ہو۔پھر کیوں نصیحت حاصل نہیں کرتے؟ بھلا بتاؤ تو سہی کہ جو کچھ تم کاشت کرتے ہو کیا تم ہی ہو جو اسے اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں؟ اگر ہم چاہتے تو ضرور اسے ریزہ ریزہ کر دیتے پھر تم باتیں بناتے رہ جاتے کہ یقیناً ہم چٹی تلے دب گئے ہیں۔نہیں! بلکہ ہم کلیہ محروم ہو چکے ہیں۔کیا تم نے اس پانی پر غور کیا ہے جو تم پیتے ہو؟ کیا تم ہی نے اسے بادلوں سے اتارا ہے یا ہم ہیں جو اتارنے والے ہیں؟ اگر ہم چاہتے تو اسے کھارا کر دیتے پس تم شکر کیوں نہیں کرتے ؟ بتاؤ تو سہی کہ وہ آگ جو تم روشن کرتے ہو، کیا تم اس کا شجر ( نما شعلہ) اٹھاتے ہو یا ہم ہیں جو اسے اٹھانے والے ہیں؟ ہم نے اسے ایک نصیحت کا ذریعہ اور مسافروں کیلئے فائدہ کا موجب بنایا ہے۔یہ آیات بہت تواتر سے اور مؤثر رنگ میں ہماری توجہ اس طرف مبذول کراتی ہیں کہ 300