الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 307
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 301 اللہ تعالی ہی خالق حقیقی ہے اور تمام فیصلے اسی کے ہاتھ میں ہیں۔فیصلہ کا انحصار چانس یا اتفاق پر نہیں ہوا کرتا اور نہ ہی کوئی تخلیق حادثاتی ہے۔ایسے ہر موقع پر خدا تعالیٰ کی ذات ہی فیصلہ کرتی اور ایک مد بر بالا رادہ ہستی کی حیثیت سے اسے نافذ بھی کرتی ہے۔حیات کے ارتقائی عمل کے دوران کسی اندھا دھند اتفاقی اور حادثاتی خصوصیات کا دخل نہیں ہوتا بلکہ یہ خدا تعالی ہی ہے جو زندگی اور موت کی کشمکش میں زندگی کو پروان چڑھاتا، اس کے خدوخال ابھارتا اور اسے جینے کے ڈھنگ سکھاتا ہے اور اس عظیم الشان منصوبہ میں کوئی رخنہ نہیں کیونکہ اس کا چلانے والا اسے اپنے عرش عظیم سے نہایت قدرت اور تدبیر سے چلاتا ہے۔اس کی تخلیق بے عیب اور تضادات سے پاک ہے۔مندرجہ بالا آیات اس مضمون کو نہایت وضاحت سے بیان کرتی ہیں۔ڈارون کے مفروضہ بقائے اصلح، جس کی وضاحت آئندہ صفحات میں آئے گی، میں اس امر کی کوئی ضمانت نہیں کہ یہ طریق غلطی سے نکلیۂ مبرا ہے۔اس کے برعکس بعض جانور زندگی کی تگ و دو میں بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔عین ممکن ہے کہ محض ان مخصوص حالات سے ہی عہدہ برآ ہونے کی اہمیت رکھتے ہوں۔جہاں تک زیادہ ترقی یافتہ جانوروں کا تعلق ہے، کسی جانور کی بقا اس بات کی ضمانت نہیں دیتی کہ اس کی بقا بخش قو تیں بدستور محفوظ رہیں گی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نظریہ میں کسی ایسی باشعور ہستی کی گنجائش نہیں ہے جو ہمیشہ اس زندگی اور موت کی کشکاش کے نتیجہ میں ابھرنے والی خوبیوں کا انتخاب کر سکے تخلیق کائنات کے بارہ میں قرآن کریم ایک ایسے ہمہ گیر نظام کی وضاحت کرتا ہے جو ہر طرح سے بے عیب ہے اور اس میں کسی کمزوری یا رخنہ کا امکان تک نہیں۔چنانچہ فرماتا ہے: تَبْرَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ نَ الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ والحيوة لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَوَاتٍ طِبَاقًا مَا تَرَى فِى خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفَوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ ترى من فطور ثم ارجع النصر كرتين ينقلب إِلَيْكَ الْبَصَرَ خَاسِئًا وَهُوَ حَسِيره (الملک 2:67-5)