الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 305 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 305

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 299 کسی گندی چیز کو نہ چھونا جبکہ بائیں ہاتھ کا استعمال اس کے الٹ ہے۔چنانچہ جب ایک مسلمان دوسرے سے ہاتھ ملاتا ہے تو اسے کامل یقین ہوتا ہے کہ اس کا دایاں ہاتھ صاف ستھرا ہے۔یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ آئندہ جب یہ مضمون مزید وضاحت کے ساتھ بیان کیا جائے گا تو قاری پر قدرت میں پائی جانے والی سمت کے بارہ میں حیران کن انکشافات ہوں گے جو اس حقیقت سے پردہ اٹھائیں گے کہ قرآن کریم کا نازل کرنے والا واحد لاشریک خدا ہی کائنات کا خالق ہے۔ترجیح (Partiality) کی اصطلاح کا استعمال عموماً اس وقت کیا جاتا ہے جب یہ بتانا مقصود ہو کہ ایک چیز کو بغیر کسی خاص وجہ کے اختیار کیا گیا ہے۔لیکن جب یہی بات اللہ تعالی کے حوالہ سے ہو تو انسان اپنی کم علمی کی وجہ سے یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آخر کیوں ایک خاص سمت کو ترجیح دی ہے؟ تاہم اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اللہ تعالی کے انتخاب میں کوئی محفلی حکمت پوشیدہ نہیں ہے۔جوں جوں سائنس علت اور معلول کی جستجو میں زیادہ گہرائی میں جاتی ہے قدرت کے نا قابل توضیح حقائق منکشف ہونے لگتے ہیں۔قرآن کریم میں بار بار واضح طور پر اس انتخاب طبعی اور اصول بقائے اصلح بات کا ذکر ے ک تخلیق کے ہرقدم پر کوئی نہ ہے کہ کوئی فیصلہ کرنا پڑتا ہے اور ہر بار یہ فیصلہ کسی اتفاقی حادثہ کا نتیجہ نہیں ہوا کرتا بلکہ ہر فیصلہ کے پیچھے علیم و خبیر خدا کا ہاتھ کارفرما ہوتا ہے۔چنانچہ مندرجہ ذیل آیت میں یہ بات واضح طور پر بیان کی گئی ہے: وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ سبحن اللهِ وَتَعَلَى عَمَّا يُشْرِكُونَ۔(القصص (69:28) ترجمہ: اور تیرا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور اس میں سے ) اختیار کرتا ہے۔اور ان کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔پاک ہے اللہ اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔مندرجہ ذیل آیات میں بھی یہی مضمون چلتا ہے: نَحْنُ خَلَقْنَكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُونَ ) أَفَرَعَيْتُم مَّا تُمْنُوْنَ أَنْتُمْ