الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 232 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 232

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 227 سمجھنے اور اس سے نتیجہ اخذ کرنے کی صلاحیت سب میں یکساں نہیں ہوتی۔پھر ہر شخص میں تصنع یا ملمع سازی کو شناخت کرنے کی صلاحیت بھی نہیں ہوتی۔مشاہدہ کرنے والے اور مشہود کے باہمی رد عمل سے کئی نئے امکانات ابھرتے ہیں۔بعض اپنی نیتوں کو نہایت کامیابی سے چھپا سکتے ہیں جبکہ بعض میں اس صلاحیت کا فقدان ہوتا ہے۔ان حالات میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک مشاہدہ کرنے والا انسان کس حد تک کسی دوسرے انسان کے اندرونی سچ اور جھوٹ کے بارہ میں حتمی رائے قائم کرنے کا اہل ہے۔ایمان اور اعتقاد کے معاملہ میں یہ مسئلہ اور بھی گمبھر ہو جاتا ہے۔ایک انسان انتہائی احمقانہ نظریات اور عقا ئد تو اپنا سکتا ہے اور ایسے لوگوں کی آج کل کوئی کمی بھی نہیں ہے مگر ایسے لوگوں کے متعلق حتمی طور پر یہ فتوی نہیں دیا جا سکتا کہ وہ جان بوجھ کر جھوٹ بول رہے ہیں۔ایسے انسان سادہ لوح اور کم فہم ہی ہو سکتے ہیں جو اپنی ایسی غلطی کو بھی محسوس نہ کر سکیں جو اوروں کو نظر آرہی ہو۔اس کے باوجود انہیں پورا حق حاصل ہے کہ جس بات کو وہ صحیح سمجھتے ہیں اسے مانیں اور یہ دعوی بھی کریں کہ وہ حق پر ہیں۔علاوہ ازیں انہیں یہ پورا حق بھی حاصل ہے کہ وہ روں کے نظریات یا عقائد کو یہ کہہ کر رد کر دیں کہ یہ باطل ہیں۔خواہ ان کے ماننے والوں کو وہ کتنے ہی صحیح اور عقل کے عین مطابق نظر کیوں نہ آئیں۔اس مشکل مسئلہ کا واحد اور ٹھوس حل قرآن کریم نے پیش کیا ہے۔قرآن کریم ہر انسان کو یہ بنیادی حق دیتا ہے کہ وہ جس عقیدہ کو بھی صحیح سمجھے اسے اختیار کرے اور اس کی سچائی کا اعلان کرے۔لیکن کسی صورت میں بھی کسی کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اپنے عقائد کو اوروں پر مسلط کرے یا اوروں کو ان کے عقائد کی وجہ سے جو اس کی اپنی دانست میں غلط ہیں سزا دیتا پھرے۔انسان صرف خدا تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہے اور صرف وہی واحد ذات ہے جو دلوں کے بھید خوب جانتی ہے۔یاد رہے کہ صداقت کو شناخت نہ کر سکنے کی وجہ سے کوئی انسان مستوجب سزا نہیں ٹھہرتا۔قابل مواخذہ امر یہ ہے کہ کوئی شخص کسی بات کو دل کی گہرائی سے برحق سمجھتے ہوئے بھی اس کو تسلیم کرنے سے انکار کر دے۔ظاہر ہے کہ اس قبیل کے پوشیدہ جرائم کا کھوج لگا نا کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔حق کو شناخت نہ کر سکنا جرم نہیں ہے بلکہ شناخت کے بعد اسے تسلیم نہ کرنا جرم ہے۔اور یہ فیصلہ تو صرف خدا تعالیٰ کی علیم وخبیر، حاضر ناظر، غیر مبدل اور حکیم ذات ہی کر سکتی