الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 218
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 213 حل کو خواب یا کشف کی صورت میں دماغ کے اعلیٰ شعور کی طرف منتقل کر دیتا ہے۔اس عمل کے ذریعہ حاصل کردہ نتائج ہمیشہ دماغ کو پہلے سے میسر معلومات کی وسعت اور گنجائش کے مطابق ہی ہوتے ہیں۔اس عمل کو متحرک کرنے کیلئے کسی بیرونی امداد کی ضرورت نہیں ہوتی۔حتی کہ ایک مجرم بھی ارتکاب جرم کیلئے اپنے تحت الشعور کی وجدانی قوت کی مدد سے ایک انوکھا طریقہ واردات سوچ سکتا ہے۔لیکن اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ وجدان کے نتائج ہمیشہ انسانی ذہن کو میسر معلومات کے عین مطابق ہوتے ہیں اور اس کی حدود سے تجاوز نہیں کر سکتے۔دیوانگی یا منشیات کے استعمال کے نتیجہ واہموں کے علاوہ دیگر نفسیاتی تجربات میں واہے پیدا ہوتے ہیں کیونکہ منشیات کا استعمال انسانی ذہن کو غیر معمولی طور پر انگیخت کر دیتا ہے۔نتیجہ تحت الشعور کا نظام جو پہلے سے موجود ہوتا ہے متحرک ہو جاتا ہے۔اس صورت میں پیدا ہونے والے نتائج میں کوئی ربط نہیں ہوتا۔اکثر و بیشتر بیرونی تجزیہ نگار بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ ایسے تصورات محض تخیلاتی پراگندگی کی وجہ سے بے ہنگم سوچ یا دہشت ناک خوابوں کے ٹکڑے ہوا کرتے ہیں۔اور ایسا تجزیہ نگار اس ذہنی انتشار کے ساتھ ساتھ مایوسی ، گھبراہٹ اور پراگندگی کی کیفیت کو بھی بآسانی مشاہدہ کر سکتا ہے۔اس کے باوجود عین ممکن ہے کہ تحت الشعور بامعنی اور مربوط تصورات کا ایسا تانا بانا بن لے جس میں کوئی پیغام بھی شامل ہو۔یہ بھی ممکن ہے کہ تحت الشعور ، شعوری ذہن کو کوئی با مقصد پیغام پہنچا دے۔البتہ یہ بات طے ہونے والی ہے کہ آیا کوئی بیرونی واسطہ بھی انسانی دماغ کے اندرونی نظام پر اثر انداز ہو رہا ہے یا نہیں۔وسیع پیمانے پر تحقیق و تجربات کے بعد پیرا سائیکالوجی کے ماہرین نے ثابت کیا ہے کہ ایسا ہونا عین ممکن ہے۔ایک آدمی کا ذہن کسی دوسرے آدمی کے ذہن کو متحرک کر کے اپنی ہدایات کے تابع رہنے کا حکم بھی دے سکتا ہے۔بہت کی یونیورسٹیوں میں اس اچھوتے موضوع پر تحقیق ہورہی ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ ایسا ہونا نہ صرف ممکنات میں سے ہے بلکہ روز مرہ زندگی میں بعض اوقات از خود اور کبھی کبھار شعوری کوشش کے نتیجہ میں کسی بھی مادی واسطہ کے بغیر ایک آدمی کے خیالات کسی دوسرے کے ذہن میں منتقل کئے جاسکتے ہیں۔