الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 219
214 الهام کی حقیقت عمل تنویم کا ماہر ارتکاز توجہ سے دوسروں کے ذہنوں پر اپنے عمل تنویم یا ہیپناٹزم تصورات مسلط کر سکتا ہے۔جیسا کہ نفسیاتی علاج کے بارہ میں بالعموم سمجھا جاتا ہے، عمل تنویم کا مقصد دماغ میں پوشیدہ رازوں سے پردہ اٹھانا یا اس کی صحت یابی کیلئے دماغی قوت کو متحرک کرنا ہے۔بسا اوقات ایک پراگندہ حال مریض اپنے منتشر خیالات کا سامنا کرنے کی ہمت کھو بیٹھتا ہے۔وہ ان خیالات کو اپنے ذہن کی گہرائی میں دفن کر چکا ہوتا ہے لیکن اتنی گہرائی میں بھی نہیں۔بلکہ ایسے خیالات کہیں شعور اور تحت الشعور کے درمیان بے چینی کی کیفیت میں معلق رہتے ہیں۔اور مریض بالآخر معمولی سی بیرونی مدد سے اس حد تک قوت مجتمع کر لیتا ہے کہ ان خیالات کو ذہن کی شعوری سطح تک لا کر ان سے چھٹکارا حاصل کر سکے۔اس کی مثال یوں دی جاسکتی ہے جیسے جلد میں کوئی نہایت تکلیف دہ چیز داخل ہو جائے اور باہر نکالنے تک نا قابل برداشت اذیت اور بے چینی کا باعث بنی رہے۔ایسی حالت میں ایک سرجن کا نشتر جو کردار ادا کرتا ہے ہپنا ٹزم کے ماہر کا مشورہ بھی ایک نفسیاتی مریض کے معاملہ میں بعینہ یہی کردار ادا کرتا ہے۔کسی معلوم سائنسی واسطہ کے بغیر پیغامات ایک شخص سے دوسرے ٹیلی پیتھی یا اشراق | محص میں منتقل کرنا اشراق یا ٹیلی پیتی کہلاتا ہے۔اس میں کوئی صوتی یا بصری واسطه استعمال نہیں ہوتا۔اس دوشاخہ سُر (Tuning forks) کی طرح جس میں ایک کی تھر تھر اہٹ سے ہم آہنگ ہو کر دوسرا بھی تھر تھرانا شروع ہو جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر ہپناسس اور ٹیلی پیتھی حقیقت ہے جیسا کہ شواہد سے ثابت ہے تو اللہ تعالیٰ یہ نظام انسانوں کی رہنمائی کیلئے کیوں استعمال میں نہیں لاسکتا۔خوابوں کی حیثیت عالمگیر ہے اور ہر زمانہ تحت الشعور سے متعلق دیگر تجربات اور علاقہ کے لوگوں کوان کا تجربہ ہے۔تا ہم خواب ایک ہی قسم سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ اکثر خواب انسانی نفسیات کی پیداوار ہوتے ہیں۔تحت الشعور کو حاصل ہونے والی معلومات کسی شخص کے روزمرہ کے مسائل کی آئینہ دار ہیں۔موجودہ زمانہ میں علم رویا کا مطالعہ فرائڈ کے نظریہ سے بہت آگے جا چکا ہے۔چنانچہ جدید الیکٹرونک آلات