الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 193 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 193

آسٹریلیا کے قدیم باشندوں میں خدا تعالیٰ کا تصور اب تک ہم نے مغربی ماہرین عمرانیات کے ان نظریات کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جو آجکل مقبول عام ہیں۔انہوں نے اپنی عجیب و غریب منطق سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ نہ صرف انسان خدا تعالیٰ کی تخلیق نہیں بلکہ ایک خدا کا تصور بھی انسانی ذہن کی ہی پیداوار ہے۔اس نظریہ کے حق میں ان کے نام نہاد ثبوت محض قیاس آرائیوں سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتے۔یہ امر کہ ایک ارب سال پر محیط انسانی جسم اور ذہن کا ارتقائی مطالعہ کہاں تک ان کے اس عجیب و غریب مفروضہ کی تائید کرتا ہے، بذات خود تحقیق طلب ہے اور گہرے مطالعہ کا متقاضی ہے۔دوسری طرف تاریخ مذاہب کے غیر جانبدارانہ مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ پر ایمان انسانی تو ہمات کی پیداوار نہیں۔کیا انسان خدا کی تخلیق ہے یا خدا انسان کی؟ اس نہایت اہم سوال پر ہم پہلے ہی دنیا کے بعض بڑے بڑے توحید پرست مذاہب کی تاریخ کے حوالہ سے بحث کر چکے ہیں۔اب ہم آسٹریلیا کے قدیم مذاہب کے حوالہ سے ماہرین عمرانیات کے اس نقطۂ نظر کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں کہ کیا واقعہ خدا کا تصور بتدریج پروان چڑھا ہے؟ یہ جائزہ ان ماہرین کے طرز تحقیق میں موجود غلطیوں کو اور بھی واضح کر دے گا۔یہ لوگ تحقیق شروع کرنے سے پہلے ہی یہ مفروضہ قائم کر لیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے۔کیا کوئی انصاف پسند شخص ایسی تحقیق کو سائنسی تحقیق کہہ سکتا ہے جس کے نتائج کا فیصلہ تحقیق کے شروع ہونے سے پہلے ہی کر لیا جائے؟ یہ اندرونی تضاد اس وقت اور بھی نمایاں ہو جاتا ہے جب ان ماہرین عمرانیات کو آسٹریلیا سے ملنے والے ناقابل تردید شواہد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ہونا تو یہ چاہئے کہ کسی تحقیق کو شروع کرنے سے پہلے اس کے اصول وضع کر لئے جائیں۔لیکن ماہرین عمرانیات نے ایسے اصول وضع کرنے یا تحقیق کا مقصد متعین کرنے کی سرے سے کوشش ہی نہیں کی۔ان کا تو صرف ایک ہی اصول ہے اور ایک ہی مفروضہ اور وہ یہ کہ کوئی خدا موجود نہیں۔ان کی تحقیق کا مقصد تو صرف یہ 189