الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 153
زرتشت ازم فارس کی تاریخ کے مطابق زرتشت ازم نے مذہبی فلسفہ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اس فلسفہ کی رو سے نہ صرف صداقت اور نیکی دائمی ہیں بلکہ جھوٹ اور بدی بھی ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔دونوں کے الگ الگ دیوتا ہیں جو اپنے انتظامی معاملات میں خود مختار ہیں۔نیکی کا دیوتا اہورا مزدا ہے جسے نور کا دیوتا بھی کہا جاتا ہے جبکہ بدی کا دیوتا اہرمن ہے جو ظلمت کا دیوتا بھی کہلاتا ہے۔ہر ایک کا اپنا اپنا الگ اور معین کردار ہے۔اس کائنات کی تمام تر سرگرمیاں ان دونوں متحارب دیوتاؤں کی باہمی کشمکش اور تصادم ہی کا نتیجہ ہیں۔یہ دونوں ازل سے بقا اور برتری کی خوفناک جنگ میں مصروف ہیں۔نیکی کے دیوتا کی قوتیں ہمیشہ بدی کے دیوتا کی قوتوں کو زیر کرنے میں کوشاں رہتی ہیں۔ہنڈولے کے کھیل کی طرح اس کشمکش کا نتیجہ کبھی نیکی کے حق میں اور کبھی بدی کے حق میں ظاہر ہوتا ہے۔لہذا زرتشتی فلسفہ برائی اور اچھائی ، دکھ اور خوشی دونوں کے ہمیشہ سے ایک ساتھ موجود رہنے کا فلسفہ ہے اور ایک سیدھی سادی وضاحت ہے جو ان دونوں کے نقطہ آغاز کو دو مختلف ماخذوں کی طرف منسوب کرتی ہے۔دنیا میں جس قدر بھی آفات ہیں مثلاً مختلف قسم کے رنج والم ، جسمانی و دینی تکالیف ، صدمات، جہالت اور دکھ، ان کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب بدی کا دیوتا غالب آجاتا ہے۔یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ حضرت زرتشت علیہ السلام ) ه حضرت زرتشت علیہ السلام * ( چھٹی صدی قبل مسیح) نے اپنے پیرو کاروں کو حقیقتا یہ تعلیم دی تھی کہ نیکی اور بدی کی قوتوں کی بیک وقت موجودگی انسان کو اپنے حضرت زرتشت (ZOROASTER) جو ایران کے ایک عظیم نبی تھے، بہت سے زرتشتیوں کے نزدیک شویت کے قائل تھے۔جبکہ دیگر بہت سے لوگ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ آپ موحد تھے۔آپ کے نام کے مختلف تلفظ ہیں اور مختلف بچے کئے جاتے ہیں۔ہم نے انگریزی زبان میں مستعمل لفظ ZOROASTER کو اختیار کیا ہے جس سے اکثر لوگ مانوس ہیں۔تاہم بیٹے (NIETZSCHE) نے ZARATHUSTRA کے نام سے آپ کا ذکر کیا ہے۔اس سیاق و سباق میں ہم نے اس کی اصطلاح کو اس تلفظ کے ساتھ استعمال کیا ہے لیکن شخصیت بہر حال ایک ہی ہے۔(مصنف) 151