الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 84 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 84

84 يوناني فلسفه میں نے کبھی موت کی ذرہ برابر بھی پرواہ نہیں کی۔مجھے صرف ایک ہی خوف تھا کہ میں کسی گناه یا غلطی کا ارتکاب نہ کر بیٹھوں۔مگر ظلم و استبداد کی طاقتیں مجھ سے ایسا کروانے میں ناکام رہی ہیں۔18 ، ایسے مواقع پر نام نہاد معززین ذلت کا راستہ اختیار کر لیا کرتے ہیں۔لیکن سقراط ایسا نہیں کر سکتا تھا۔چنانچہ اس نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے مزید کہا: میں نے بڑے مشہور و معروف لوگوں کو اس وقت عجیب و غریب حرکتیں کرتے ہوئے دیکھا ہے جب انہیں سزا سنائی گئی۔ایسے لگتا تھا کہ ان کے خیال میں اگر وہ مارے گئے تو انہیں بڑی خوفناک مصیبت کا سامنا کرنا پڑے گا اور جان بخشی کی صورت میں انہیں بقائے دوام حاصل ہو جائے گی۔19 پس جس کام کو میں ذلت آمیز، برا اور غلط سمجھتا ہوں اس کے کرنے کی مجھ سے توقع نہ رکھو۔بالخصوص اب جبکہ مجھ پر میلٹس کی طرف سے غیر متقی ہونے کا الزام لگا کر مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔1966 اس کے بعد کے واقعات بتاتے ہیں کہ خدا کی وحدانیت پر پختہ ایمان رکھنے کے باوجود سقراط دیوتاؤں کی طرح کے بعض وجودوں پر بھی ایمان رکھتا تھا۔لیکن جو مختلف اور اعلیٰ درجہ کی صفات وہ ان کی طرف منسوب کرتا ہے وہ اہل ایتھنز کے نام نہاد دیوتاؤں پر ہرگز اطلاق نہیں پاتیں۔وہ ان وجودوں کا ذکر بالکل اسی رنگ میں کرتا ہے جیسے دیگر الہامی مذاہب میں فرشتوں کا ذکر پایا جاتا ہے۔اس لحاظ سے فرشتوں کے مفہوم میں دیوتاؤں پر ایمان خدائے واحد پر ایمان سے یقین متناقض نہیں ہے۔اور جب آخر میں وہ اپنے عہد وفا کا اظہار کرتا ہے تو ایتھنز کے لوگوں اور خدا کے ساتھ یہ عہد باندھتا ہے: اور میں تمہارے اور اپنے رب کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کرتا ہوں۔“ 20 ،، سقراط چھوٹے سے چھوٹے پہلو کے لحاظ سے بھی قرآن کریم اور دیگر صحف مقدسہ میں مذکور انبیاء جیسا ہی ہے۔وہ خود کشی کو خدا تعالیٰ کے قانون کے خلاف ایک جرم قرار دے کر اس کی