جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 96 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 96

خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 96 کی وفات کے ایک ماہ بعد کی بات ہے کہ مجھے الہام ہوا۔اِعْمَلُو اآلَ دَاوُدَ شُكْرًا - اے داؤد کی نسل شکر گزاری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور اعمال بجالاؤ۔اس الہام میں اللہ تعالیٰ نے لفظ سلیمان تو استعمال نہیں فرمایا مگر آل داؤد کہہ کر حضرت سلیمان کی بعض خصوصیات کا مجھ کو وعدہ دیا گیا ہے۔میں سمجھتا ہوں اُن باتوں میں سے ایک یہ بات بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت جو ہمیشہ لوگوں کے لئے اضطراب کا موجب رہی مجھ پر ابتدائی زمانہ ہی میں کھول دی تھی اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس میں یہ بھی پیشگوئی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد خلافت کے مقام پر مجھ کو کھڑا کیا جائے گا اور ان مشکلات کا بھی اس میں ذکر تھا جو میرے راستہ میں آنے والی تھیں۔چونکہ انسانی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ تکالیف اور اعتراضات سے گھبراتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ تکالیف اور اعتراضات کوئی بُری چیز نہیں ہیں بلکہ آل داؤ د ہونے کے لحاظ سے تمہیں ان کا منتظر رہنا چاہئے اور ان سے گھبرانا نہیں چاہئے۔" نیز فرمایا: ( تفسیر کبیر جلد 2 صفحه 67-66) " تیسرا الہام جو مجھے اسی رنگ میں ہوا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اعملوا آل داؤد شكرا۔وفات کے بعد وہ یہ ہے کہ آل داؤ تم اللہ تعالیٰ کے شکر کے ساتھ اس کے احکام پر عمل کرو۔اس الہام کے ذریعہ اعملو ا کہہ کر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے منشاء پر پوری طرح عمل کرنے کا حکم دیا ہے اور آل داؤد کہہ کر اللہ تعالیٰ نے مجھے حضرت سلیمان علیہ السلام سے مشابہت دی ہے۔حضرت سلیمان السلام حضرت داؤد علیہ السلام کے بعد خلیفہ ہوئے تھے اور ان کے بیٹے بھی تھے۔۔۔۔۔۔مجھے یاد ہے اس وقت یہ الہام اتنے زور سے ہوا کہ کتنی دیر تک مجھ پر اس الہام کے نازل ہونے کی کیفیت تازہ رہی۔" علیہ ( الفضل07 / مارچ1944ء)