جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 95
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 95 ہوں کہ ایک فوج ہے میں اس کی کمان کر رہا ہوں اور بعض اوقات ایسا دیکھتا ہوں کہ میں سمندروں سے گذر کر آگے جا کر مقابلہ کر رہا ہوں اور کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ میں نے اگر پار گزرنے کے لئے اور کوئی چیز نہیں پائی تو سرکنڈہ وغیرہ سے کشتی بنا کر پار گیا اور جا کر حملہ آور ہوا ہوں۔حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب نے فرمایا کہ جب یہ خواب میں نے آپ سے سنا میرے دل میں اس وقت یہ بات گڑ گئی کہ یہ شخص یقیناً کسی وقت جماعت کی لیڈری کرے گا اور اس وجہ سے میں نے اس دن سے بوجہ ادب کے آپ کی کلاس میں ان کے سامنے کرسی پر بیٹھنا چھوڑ دیا۔اور آپ سے یہ خواب سننے کے بعد میں نے آپ سے یہ پختہ عہد لیا کہ میاں آپ بڑے ہو کر مجھ کو نہ بھلا دیں اور مجھ پر پھر بھی نظر شفقت رکھیں۔حضرت مولوی صاحب نے ایسی ہی اور بھی چند خوا ہیں حضور کی سنائیں اور یہ اس زمانہ کی ہیں جبکہ آپ ہنوز سلسلہ تعلیم میں مشغول بلکہ چوتھی جماعت میں پڑھتے تھے مگر آخر وہ وقت آگیا کہ جب خدا نے آپ کی ان خوابوں کو پورا کرتے ہوئے آپ کو ایک جماعت کا خلیفہ اور امام بنا کر ہندوستان اور ہندوستان سے باہر سمندر پار کے ممالک میں تبلیغ احمدیت پہنچانے کی توفیق دی۔چنانچہ سمندر پار کی ترقی کا سہرا حضرت خلیفہ المسح الثانی (نوراللہ مرقدہ ) کے سر پر ہے۔"۔اصحاب احمد جلد 5 صفحہ 151-150) خلافت کے مقام پر کھڑا کرنے کا الہی اشارہ: آپ خود فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مئی 1908ء میں فوت ہوئے تھے۔غالباً آپ