جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 88
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 88 فرماتے۔بیٹھتے اور درس دیتے۔ایک دن میں حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کچھ بات کر رہے تھے۔اور سب دوست توجہ سے سن رہے تھے۔تو میں بغیر بلند آواز سلام کرنے کے دبے پاؤں آگے بڑھا۔لیکن حضرت مولوی صاحب نے مجھے دیکھ لیا۔تو آپ نے میری طرف رخ کر کے السلام علیکم فرمایا اور فرمایا کہ میں یہ بات کر رہا تھا کہ مسند احمد بڑی اعلیٰ پایہ کی کتاب ہے مگر آپ کے دوشاگردوں کی وجہ سے اس میں بعض غیر معتبر روایات شامل ہوگئی ہیں۔میرا ارادہ تھا کہ میں صحاح کو سامنے رکھ کر ان کو چھانٹ کر اس کتاب کو اس نقص سے پاک کردوں۔مگر اب میرے سپر دایسا کام ہو گیا ہے کہ مجھے دوسرے کاموں کی فرصت کم ملتی ہے اور عمر کا تقاضا بھی ایسا ہی ہے کہ پس اب مجھے یقین ہو گیا ہے کہ یہ کام مجھ سے نہیں ہوسکتا۔اگر آپ ( حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب) کو ان کے زمانہ میں ( اشارہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی طرف تھا جو آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور میں (حضرت مولوی سرور شاہ صاحب ) حضرت خلیفہ امسیح الثانی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ) خدا وند تعالی توفیق دے تو اس کام کو ضرور کرنا۔خدا آپ کو بہت بڑا اجر دے گا۔اس بات پر مکرم چوہدری بدر بخش صاحب مرحوم ( اس وقت آپ کا نام بدر بخش تھا ) جو حلقے میں بالکل میرے سامنے بیٹھے ہوئے تھے نے اٹھ کر حلقے کے نصف دائرہ طے کر کے میرے پاس آکر میرے کان میں کہا کہ مولوی صاحب کی یہ بڑی قابل قدر بات ہے اس کو ضرور نوٹ کر لیں۔چنانچہ ان کے کہنے پر میں نے کاپی نکالی اور حضرت مولوی صاحب کی یہ بات لکھ لی اور اس وقت میں نے اس مجلس کے آدمیوں کو مار کیا جو ساٹھ آدمی تھے۔حضرت خلیفتہ اسے الاول اور حضرت خلیفہ امسیح الثانی اور خاکسار کو چھوڑ کر۔" اصحاب احمد جلد 5 صفحه 142-141 از ملک صلاح الدین صاحب ایم اے)