جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 89 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 89

خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے ۴۔مولا ! اس کو زمانہ کا امام بنادے: 89 99 حضرت شوق محمد صاحب عرضی نویس رفیق حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔"1903ء میں قادیان میں بغرض تعلیم مقیم تھا۔میں نے اپنے زمانہ قیام دارالامان میں متعدد بار دیکھا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ( نور اللہ مرقدہ ) بچپن میں ہی چلتے وقت نہایت نیچی نظریں رکھا کرتے تھے۔اور چونکہ آپ کو آشوب چشم کا عارضہ عموماً رہتا تھا اس لئے کئی بار میں نے حضرت حکیم الامت مولانا نورالدین صاحب خلیفہ اسیح الاوّل کو خود اپنے ہاتھ سے آپ کی آنکھوں میں دوائی ڈالتے دیکھا۔وہ دوائی ڈالتے وقت عموماً نہایت محبت اور شفقت سے آپ کی پیشانی پر بوسہ دیا کرتے۔اور رخسار مبارک پر دست مبارک پھیرتے ہوئے فرمایا کرتے۔" میاں تو بڑا ہی میاں آدمی ہے ، اے مولا! اے میرے قادر مطلق مولا اس کو زمانہ کا امام بنا دے۔" بعض اوقات فرماتے " اس کو سارے جہاں کا امام بنا دے۔" مجھ کو حضور کا یہ فقرہ اس لئے چھتا کہ آپ کسی اور کے لئے ایسی دعا نہیں کرتے۔صرف ان کے لئے دعا کرتے ہیں۔چونکہ طبیعت میں شوخی تھی اس لئے میں نے ایک روز کہہ ہی دیا کہ آپ میاں صاحب کے لئے اس قدر عظیم الشان دعا کرتے ہیں کسی اور شخص کے لئے ایسی دعا کیوں نہیں کرتے۔اس پر حضور نے فرمایا! اس نے تو امام ضرور بننا ہے میں تو صرف حصول ثواب کے لئے دعا کرتا ہوں ورنہ اس میں میری دعا کی ضرورت نہیں۔میں یہ جواب سن کر خاموش ہو گیا۔جلسہ سالانہ گزشتہ کے موقعہ پر کئی ہزار کے قریب مجمع کی بھیڑ اور حسن انتظام دیکھ کر اور مبلغین کے کارنامے جو انہوں نے بیرون جات میں کئے اور مشن ہائے احمدیت جو غیر ممالک میں قائم ہوئے ان کے حالات وکوائف سن کر مجھے حضرت خلیفۃ امسیح الاوّل کی وہ دعائیں یاد