جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 500 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 500

خلافت خامسه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے -ii 500 دوسرا نظارہ جو کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے دکھایا گیا وہ مارچ 2003ء کا ہے جب خاکسار کوئٹہ میں بطور مربی سلسلہ خدمات بجا لا رہا تھا۔ہوا یوں کہ خاکسار نے فجر کی نماز احمد یہ بیت الحمد فاطمہ جناح روڈ کوئٹہ میں پڑھائی اور دوسری رکعت میں سورۃ نور کی آیت الله نور السموات والارض کی تلاوت کی نماز فجر کی ادائیگی کے بعد تفسیر کبیر سے درس بھی اتفاق سے اسی آیت کا جاری تھا۔چنانچہ درس دینے کے بعد خاکسار حسب معمول صبح کی سیر کے لئے کینٹ کے علاقے کی طرف چل پڑا چنانچہ جب آبادی سے خاصہ دور پہاڑوں کے دامن میں کوئٹہ کینٹ کی ایک کھلی سڑک پر جارہا تھا تو سامنے آسمان پر نظر جو گئی تو کیا دیکھتا ہوں کہ آسمان خوب روشن اور حد سے زیادہ چمکدار دکھائی دے رہا ہے اور اس میں ایک ترتیب سے کچھ رنگ نظر آ رہے ہیں۔افقی سائیڈ پر ایک طرف گہر اشفاف آسمانی نیلا رنگ ہے جو وسیع حصہ پر پھیلا ہوا ہے اور اس کے اوپر دو بادل ہیں جو کہ کالے اور سرخ رنگ کے ہیں۔اور ان بادلوں کے اوپر وسیع وعریض آسمان پر خوبصورت ہلکا سبز رنگ ہے جو بہت ہی خوشگوار احساس پیدا کر رہا ہے۔چند لمحوں کا یہ نظارہ دل و دماغ کو روشن و معطر کر گیا۔اس نظارے کی سمجھ خاکسار کو اس وقت آئی جب بیت الفتوح مارڈن کے افتتاح کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الخامس صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز (فراوانی دامی ) نے پہلا خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔اس کی خاص بات رنگوں کی ترتیب تھی کہ جب تک حضرت خلیفۃ ابیح الرابع رحمہ اللہ زندہ رہے آپ اپنے خطبات جمعہ لندن قیام کے دوران بیت الفضل لندن سے ہی ارشاد فرماتے تھے۔اور بیت الفضل لندن کے محراب میں گہرا آسمانی نیلا رنگ ہے جو بطور پینٹ کے کروایا گیا تھا۔پھر سرخ اور کالے بادلوں سے مراد حضرت خریہ انبیح الرابع رحم اللہ کی وفات اور اس کا غم ہے جو دل و جان پر چھا گیا تھا۔لیکن بعد ازاں دلوں کی بشاشت اور اطمینان حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے انتخاب پر لوٹ آئی۔اور اس کی انتہاء اس وقت محسوس ہوئی جب