جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 499
خلافت خامسه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے -i -۱۵ مکرم میاں مظفر الحق ظفر صاحب مربی سلسلہ رہو 499 میں خدائے غفور و رحیم کو حاضر ناظر جان کر جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے یہ تحریر کر رہا ہوں کہ پہلے کشفی نظارے سے اللہ عزوجل نے اس وقت نوازا جب خاکسار ابھی جامعہ احمدیہ کا طالب علم تھا۔یہ غالباً 1996 ء کی گرمیوں کے دن تھے۔جب صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب ابھی ناظر تعلیم مقرر ہوئے تھے۔خاکسارا اپنے چھوٹے بھائی کی تعلیم کے حوالہ سے کسی کام کے سلسلہ میں آپ سے ملنے دفتر گیا۔خاکسار جو نہی آپ کے دفتر کے سامنے پہنچا دفتر کے دروازہ کا ایک حصہ کھلا ہوا تھا جب کہ دوسرا بند تھا۔اندر مکرم ومحترم صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب تشریف فرما تھے۔آپ کے چہرے پر نظر پڑتے ہی ایسا معلوم ہوا کہ کوئی ، بہت بڑے سفید ریش والے بزرگ ہیں اسی لمحہ میں کان میں یہ غیبی آواز آئی اگر یہ حضور ( یعنی خلیفہ ) بن گئے تو ؟" ساتھ ہی خاکسار کا جسم تھرتھر کانپنے لگا اور سر سے پاؤں تک پسینہ میں شرابور ہو گیا دل میں خوف کی کیفیت طاری ہوگئی کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ابھی حضرت خلیفہ اسیح الرابع (رحمہ اللہ ) تو موجود ہیں اور ایک خلیفہ کے ہوتے ہوئے دوسرا شخص کیوں کر خلیفہ بن سکتا ہے۔مگر جب سالہا سال بعد خدائی منشاء کے مطابق حضرت خلیفہ امسیح الرابع (رحمہ اللہ ) کی وفات کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو خلیفہ المسیح الخامس بنتے ہوئے اپنی آنکھوں سے MTA پر دیکھا تو یہ نظارہ جو خاکسار تقریباً بھول چکا تھا یکدم تر و تازہ ہو گیا اور دل اللہ کی حمد اور ثنا سے لبریز ہو گیا کہ کیسے کیسے ذرائع سے اللہ تعالیٰ نئے آنے والے خلیفہ وقت کی سچی محبت پہلے سے دلوں میں ڈال دیتا ہے کہ روح اپنی گہرائیوں سے اس بچے خلیفہ کی اطاعت کو قبول کر لیتی ہے۔