جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 229
خلافت ثالثه : مبشر رویا ، خواہیں اور الہی اشارے 229 بشیر اول ارہاص کے طور پر پیدا ہوئے جنہیں پسر موعود والی پیشگوئی کا مصداق سمجھا گیا۔لیکن وہ جلد وفات پاگئے اور ان کی وفات کے بعد پسر موعود کی پیشگوئی کا اصل مصداق بشیر ثانی حضرت خلیفتہ اسیح الثانی پیدا ہوئے۔بالکل اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبشر بہ لبی عمر پانے والے موعود پوتے کی پیشگوئی کے بعد 1907ء میں بشیر ثانی مصلح موعود کے ہاں نصیر احمد مرحوم پیدا ہوا جسے مبشر بہ موعود نافلہ کا مصداق سمجھا گیا۔لیکن وہ بھی بشیر اول کی طرح ہی چھوٹی عمر میں وفات پاگئے اور اس کے بعد لمبی عمر پانے والے موعود پوتے اور دوسرے لفظوں میں پانچویں فرزند کا حقیقی مصداق پیدا ہوا یعنی صاحبزادہ مرزا ناصر احمد۔پس واقعات اور قرائن اور خلافت ثالثہ کا انتخاب اور افراد جماعت کی کثیر تعداد کی رویائے صالحہ نے یہ ثابت کر دیا کہ ابن خامس اور موعود نافلہ سے مراد مرز انصیر احمد کی بجائے صاحبزادہ مرزا ناصراحمد تھے۔جن کی ولادت باسعادت 15 رنومبر 1909ء کو ہوئی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کا تصدیقی بیان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات مذکورہ کے مصداق کی جو ہم نے تعیین کی ہے۔اس کی تصدیق اس آسانی بشارت سے بھی ہوتی ہے جو اللہ تعالی نے حضرت خلیفہ انبیع الثانی کو صاحبزادہ مرزا ناصر احمد خلیفہ اسیع اثاث کی پیدائش سے پہلے دی تھی۔چنانچہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی اپنے ایک مکتوب میں جو آپ نے اپنے موعود فرزند کی پیدائش سے دو ماہ قبل یعنی 26 ستمبر 1909 ء کوتحریر فرمایا تھا۔آپ تحریر فرماتے ہیں۔" مجھے بھی خدا تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ میں تجھے ایک ایسا لڑکا دوں گا جو دین کا ناصر ہوگا اور اسلام کی خدمت پر کمر بستہ ہو گا۔" (الفضل 08 اپریل 1915ء)