جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 228 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 228

خلافت ثالثه : مبشر رویا ، خواہیں اور الہی اشارے اللهِ وَاصِيْبُهُ کے مطابق ہوئی تھی جس میں یہ خبر دی گئی تھی کہ وہ جلد فوت ہو جائے گا۔" آپ کے متعلق یہ الہام بھی ہوا تھا کہ كَفَى هَذَا 228 ( تذکرہ جدید ایڈیشن صفحہ 279) جس کا ترجمہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے یہ فرمایا ہے۔کہ یہ نسل یا اولا د کافی ہے اور اب اس کے بعد کوئی نرینہ اولاد نہیں ہوگی۔" (صادقوں کی روشنی از انوار العلوم جلد اول صفحہ 150) لیکن صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کی وفات کے بعد ایک اور لڑکے کی پیدائش کے متعلق مذکورہ بالا الہامات میں جو بشارات دی گئی تھیں۔ان سے مراد موعود نافلہ ہی تھا جیسا کہ او پر بحوالہ حقیقۃ الوحی ذکر آچکا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس پانچویں فرزند سے مراد پوتا ہی لیا تھا۔اور عملاً بھی حضور کے الہام کفی هذا کے مطابق مرزا مبارک احمد مرحوم کے بعد کوئی نرمیہ اولاد نہیں ہوئی۔گو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مذکورہ بالا الہامات کا مصداق حضرت طلیقہ اسیح الثانی کے پہلے بیٹے مرز انصیر احمد مرحوم کو قرار دیا۔لیکن وہ کم عمری میں ہی فوت ہو گئے۔اس لئے اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ مذکورہ بالا الہامات کے مصداق نہیں تھے کیونکہ ان الہامات میں اس موعود کا ایک نام بیٹی ہے جس کا ترجمہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود یہ فرماتے ہیں۔اس کا مطلب ہے زندہ رہنے والا۔( تذکرہ جدید ایڈیشن صفحہ 626) یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ موعود پوتا آپ کے پسر موعود مصلح موعود سے یہ مشابہت رکھتا ہے کہ جیسے لبی عمر پانے والے مصلح موعود کی پیشگوئی کے بعد پہلے