جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 227 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 227

خلافت ثالثه : مبشر رویا ، خوابیں اور الہی اشارے لڑکے کا لڑکا۔یہ نافلہ ہماری طرف سے ہے۔" 227 حقیقة الوحی از روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 229-228) اور یہ موعود نافلہ در حقیقت پسر موعود کا ہی فرزند تھا اور اسی کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پانچواں بیٹا قرار دیا گیا ہے اور اس پانچویں فرزند کے متعلق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔" خدا کی قدرتوں پر قربان جاؤں کہ جب مبارک احمد فوت ہوا ساتھ ہی خدا تعالیٰ نے یہ الہام کیا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ حَلِيْمٍ يَنزِلُ مَنْزِلَ الْمُبَارَكِ۔یعنی ایک علیم لڑکے کی تجھے خوشخبری دیتے ہیں جو بمنزلہ مبارک احمد کے ہوگا اور اس کا قائم مقام اور اس کا شبیہ ہو گا۔پس خدا نے نہ چاہا کہ دشمن خوش ہو۔اس لئے اس نے بھجر دوفات مبارک احمد کے ایک دوسرے لڑکے کی بشارت دے دی۔تا یہ سمجھا جائے کہ مبارک احمد فوت نہیں ہوا۔" ( مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 587) اور انانبشرک بغلام حلیم کا الہام 16 ستمبر 1907ء کو ہوا تھا جس روز کہ صاحبزادہ مرزا مبارک احمد کی وفات ہوئی تھی۔پھر 1907ء کو الہام ہوا۔" آپ کے لڑکا پیدا ہوا ہے۔" اور 6-7 /نومبر 1907 ء کو الہام ہوا۔( تذکرہ جدید ایڈیشن صفحہ 626) إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيِي۔أَلَمْ تَرَكَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ" ( تذکرہ جدید ایڈیشن صفحہ 626) یعنی ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام بیٹی ہے۔حالانکہ اس سے پہلے صاحبزادہ مرزا مبارک احمد کی وفات جوالهام إِنِّي أَسْقِطَ مِنَ