جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 148 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 148

خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 148 طرف دیکھ رہا ہوں کہ آسمان پر ستارے ٹوٹتے ہیں۔میں حیران ہوں گویا اس وقت آسمان پر آتش بازی ہو رہی ہے۔پھر میں نے مشرق کی طرف خیال کیا تو مشرق کی طرف سے کوئی سفید سی روشنی نمودار ہوئی۔معلوم ہوا کہ چاند نکلنے والا ہے۔جب چاند تھوڑا سا نکلا ، تو بادل اس پر چھا گیا گویا وہ بادل آگے ہی اس کے منتظر تھے۔کہ چاند کب نکلے اور ہم اس کو اپنے نیچے چھپالیں۔جب چاند سارا نکل آیا مگر بادلوں میں چھپا ہوا تھا۔کبھی چاند کی روشنی ہو جاتی تھی ، اور کبھی بادل چاند کو ڈھانپ کر اندھیرا کر دیتے تھے۔بادلوں کا رنگ سیاہی مائل سفید تھا۔چاند اپنی منزل طے کرتا گیا۔مگر بادل اس کے ساتھ ساتھ رہے۔کبھی چاند روشن ہو جا تا تھا کبھی بادل اس چاند پر آجاتے تھے۔حتی کہ چاند سر پر آ گیا۔پھر اسی جگہ مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر بدر آموجود ہوئے۔میں نے ان سے دریافت کیا کہ مفتی صاحب یہ کیا اندھیرا ہے۔کہ چاند کا پیچھا اب تک بادل نہیں چھوڑتے۔پھر وہ ہنس کر چلے گئے۔پھر دیکھا کہ کچھ بادل ایک طرف اور کچھ بادل ایک طرف چلے گئے ہیں اور چاند نے اپنا پورا چہرہ دکھلایا۔پھر میں بیدار ہو گیا۔پھر شاید اسی رات حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجھ کوخواب میں ملے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ باتیں اس وقت تک سر بمہر ر ہیں گی۔جب تک کہ ان کا وقت نہ آجاوے۔پھر میں قادیان میں گیا تو حضرت خلیفہ اسیح موعود علیہ السلام مولانا مولوی نورالدین صاحب مرحوم مغفور کے آگے یہ خواب بیان کی۔اس وقت تین چار آدمی شام کی نماز کے بعد آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔میں نے یہ خواب آپ کو سنائی۔آپ نے خواب کو سن کر فرمایا کہ ایک وقت اسلام پر ایسا آئے گا جو بہت خطرناک ہوگا۔خدارحم کرے۔مگر انجام بخیر ہے پھر فرمایا! کہ دیکھو آپ نے ہماری نصیحت یاد رکھنا۔ہمارے بعد جب کوئی دوسرا خلیفہ ہو دے تو اس کو فورامان لینا اس کا انکار نہ کرنا۔پیارے دوستو ! آج وہ وقت آگیا ہے اس لئے میں نے عرض کر دی ہے اور میں نے قادیان میں ہی حضرت صاحبزادہ صاحب کو خلیفہ مسیح موعود مان لیا ہے۔