جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 149 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 149

خلافت ثانیه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے۔149 اس خواب کی تائید میں محترم قاضی حبیب اللہ صاحب نے درج ذیل خوا ہیں تحریر فرماویں۔i۔(1911ء) ایک رات دیکھا کہ میں اور صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب ایک بلندی کی طرف چڑھ رہے ہیں، اور میں نے صاحبزادہ صاحب سے کہا کہ لومبارک ہو کہ جو وصیت -ii مولوی نورالدین صاحب نے فرمائی ہے اور خفیہ رکھی ہوئی ہے وہ آپ کے متعلق ہے۔پھر ایک روز سجدے میں پڑا ہوا سلسلہ کی بہتری کے واسطے دعائیں کر رہا تھا۔کہ خطرناک جنگل دیکھا۔مجھ کو سمجھایا گیا۔کہ یہ جنگل کا جھگڑا ہے پھر میں جھگڑا کے فرو ہونے کے واسطے دعائیں کرنے لگا تو معلوم ہوا کہ ان درختوں میں ایک روشنی نکل رہی ہے اور وہ روشنی دم بدم بڑھ رہی تھی۔پھر دیکھا کہ ایک سفید پگڑی دکھائی دی ، اور میں پھر دعاؤں میں لگا تو دیکھا کہ ایک شخص سفید لباس پہنے ہوئے کھڑا ہے اور وہ درخت گم ہو گئے ہیں۔اور وہ شخص صاحبزادہ !!!~ میاں محمود احمد صاحب ہیں۔iii 06 مارچ یا 07 / مارچ 1914 ء کو تھوڑی سی غنودگی ہو کر کشفی حالت ہوگئی۔دیکھا میرے سامنے صاحبزادہ صاحب کھڑے ہیں اور مجھ کو الہام ہوا ( اب اس کی تائید کرنے کا وقت آگیا ہے ) پھر میں بیدار ہو گیا۔۱۷۔پھر ایک روز 17 و 18 / مارچ 1914 ء کی درمیانی رات کو جبکہ میں نے دعا کی کہ اے مولا کریم ان جھگڑوں کا کیا انجام ہوگا۔الہام ہوا۔کنواریاں کنواریاں ہی رہیں گی اور بیاہیاں بیاہیاں ہی رہیں گی۔اس کے یہ معنی سمجھے ، کہ جنہوں نے بیعت کرنی ہے وہ کر لیں گے جنہوں نے نہیں کرنی وہ نہیں کریں گے۔(الفضل 30 / مارچ 1914ء)