جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 72
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے جائے گا۔(الاربعین فی احوال المهديين - از حضرت شاہ اسماعیل شہید۔مطبوعہ نومبر 1851 ء مصری گنج کلکتہ ) 72 حضرت مصلح موعود ان پیشگوئیوں کا اپنے وجود میں پورا ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔"میرے متعلق پیشگوئیاں موجود ہیں کہ جب مسیح نازل ہوگا تو اس کا بیٹا اس کا خلیفہ ہوگا۔پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی میرے متعلق موجود ہے۔آپ نے مسیح موعود کے متعلق فرمایا ہے کہ "يتزوج ويولد له " حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی تشریح فرمائی ہے کہ مسیح موعود کی اولاد بھی موعود ہوگی۔اس کی بیوی خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کو پورا کرنے والی ہوگی۔اور اس کی اولاد پیشگوئی کی مصداق ہوگی۔پھر دوسری پیشگوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجال من اهل فارس ( بخاری کتاب التفسیر تفسیر سورۃ الجمعۃ ) فرمائی ہے کہ اہل فارس میں سے کچھ رجال ہوں گے جو دین کو آخری زمانہ میں مستحکم کریں گے۔مسیح موعود رجل تھے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے رجال کہہ کر آپ کی اولا د کو بھی اس پیشگوئی میں شامل کیا ہے۔اس سے اتر کر دیکھو تو نعمت اللہ صاحب ولی کی پیشگوئی موجود ہے۔اور حضرت مسیح موعود نے اس کا ذکر کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ پسرش یادگار مے بینم۔صرف خلافت کا اس میں ذکر نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود اور میرے درمیان خلافت تو ایک اور بھی ہوئی ہے۔جو بہت بڑی خلافت تھی مگر نعمت اللہ صاحب ولی نے اس کا ذکر نہیں کیا۔اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ وہ زمانہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کو پھیلایا جائے گا وہ میرا زمانہ ہے اور میرے زمانہ میں خدا تعالیٰ کی خاص برکات نازل ہوں گی۔اس لئے اس کی نسبت پیشگوئی کی گئی ہے پھر حضرت مسیح موعود کے الہامات دیکھو۔ایک نہیں دو نہیں بہت سے ہیں۔اور پھر آپ کی تحریروں