جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 71
خلافت ثانیه : مبشر رویا ، خوا ہیں اور الہی اشارے آخری زمانہ میں مسیح کی آمد ثانی کی پیشگوئی منظوم کلام میں فرمائی۔آپ فرماتے ہیں۔قدرت کرد گار ہے بینم حالت روزگار از نجوم این سخن نمی گوئیم بلکه از کردگار مے ١٢٠٠ بینم بینم غین اور ے سال چون گذشت از سال بوالعجب کاروبار می بینم گردو زنگ و غبار می بینم گردر آئینہ ضمیر جہاں ظلمت ظلم ظالمان دیار بے حد و بے شمار مے بینم جنگ و آشوب و فتنه وبے داد درمیان و کنار بنده را خواجہ وش ہے یابم خواجه را بنده وارے بینم سکھ نو زنند بر رُخ زر در همش کم عیار مے بینم بینم بے بہار وثمار ے بینم بعض اشجار بوستان جہاں مخور زانکه من دریں تشویش خرمی وصل یار 71 چوں زمستان بے چمن بگذشت شمس خوش بہار مے بینم ان اشعار میں حضرت مسیح موعود اور مہدی مسعود کے ظہور سے قبل کے انقلابات کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔پھر مسیح موعود کے زمانہ اور نام کی تعین کی گئی ہے۔اح م دال می خوانم نام آں نامدار مے بینم احمد پھر فرماتے ہیں۔دور او چول شود تمام بکام پسرش یادگار می بینم یعنی جب اس کا زمانہ کامیابی کے ساتھ گزر جائے گا تو اس کے نمود پر اس کا بیٹا یادگاررہ