جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 732
خلافت خامسه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 732 ہوئی تھی اور لوگ بے چینی سے دعائیں کرتے ہوئے خدا کی رحمت کے طلبگار تھے اور قدرت ثانیہ کا ایک نیا پہلو دیکھنے کے منتظر بیت الفضل کے دروازے پر نظریں جمائے بیٹھے تھے تو عاجزہ بھی یہ نظارہ MTA سے دیکھ رہی تھی کہ اچانک تھکن کی وجہ سے لمحہ بھر ٹیک لگا کر بیٹھ گئی مگر سمجھ نہیں آتا کہ نیند کی حالت ہے یا خیال کی حالت ہے مگر ایک دم نور ہی نور آسمان سے اترتا دکھائی دیا جو کہ بہت تیزی سے برق روئی سے زمین کی طرف بڑھتا ہے۔دیکھتے ہی دیکھتے وہ نور اس جگہ میں جہاں خلافت کمیٹی بیٹھی ہے داخل ہو گیا ہے اس لحد دل میں یہ خیال بھی پیدا ہورہا ہے کہ اس بار خلیفہ اسیح کا نام حروف ابجد کے لفظ "م" سے شروع ہوگا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے وہ نور "م " نامی شخص "مسرور " میں داخل ہو جاتا ہے اور یہ الفاظ دل میں گونجتے ہیں جو میرے منہ سے جاری ہو گئے کہ اللہ نے اپنا خلیفہ چن لیا ہے اور جس شخص میں اپنا نور بھرنا تھا بھر دیا۔ایسے ہی عالم میں ایک دم جیسے میری آنکھ کھل گئی ہو یاوہ نظارہ ٹوٹ گیا ہو اور وہ کیفیت ختم ہو جاتی ہے۔میرا جسم سخت کپکپانے لگا اور دل میں ایک خوف طاری ہو گیا کہ یہ میں نے کیا دیکھا ہے۔کون سی کیفیت سے گزری ہوں مگر دل کو یہ کامل یقین ہو گیا کہ خدا تعالیٰ نے اپنا فیصلہ فرما دیا ہے لوگوں پر ظاہر ہونا باقی ہے اس کا اور میں نے اسی وقت اپنے شوہر قاضی شفیق صاحب کو فون کیا جو کہ بیت الفضل لندن کے باہر ہی بیٹھے ہوئے تھے اور سارا واقعہ بیان کیا اور کہا کہ خدا تعالیٰ نے اپنا خلیفہ منتخب کر لیا ہے اور یقینا بس اعلان ہونا باقی ہے چونکہ خدا نے اس عام بندے میں اپنا نور منتقل کر کے اسے خاص بندوں میں چن لیا ہے۔اتنے میں انہوں نے مجھے فون بند کرنے کو کہا کہ کوئی اعلان ہونے لگا ہے۔سو میں نے بھی یہ نظارہ اگلے ہی لحہ MTA پر براہ راست دیکھا۔جس میں اعلان ہو رہا تھا کہ حضرت خلیفہ اسیح الخامس مرزا مسرور احمد ہمارے خلیفہ ہوں گے۔خلافت خامسہ سے پہلے عاجزہ نے حضور کا نام کبھی نہیں سنا تھا اور نہ ہی عاجزہ حضور کو جانتی ہی تھی بلکہ یہ حقیقت ہے کہ میں اور میرے شوہر دنوں ہی اس نام سے ناواقف تھے اور