جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 53
خلافت اولی : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے 53 ہوں کہ حضرت عمرؓ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حضور رَضِيتُ بِاللهِ رَبِّاً وَ بِمُحَمَّدٍ نَبيَّاً کہہ کر اقرار کیا تھا۔اب میں اس وقت صادق امام مسیح موعود اور مہدی معہود کے حضور وہی اقرار کرتا ہوں کہ مجھے کبھی ذرا بھی شک اور وہم حضور کے متعلق نہیں گزرا اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے ہم جانتے ہیں کہ بہت سے اسباب ایسے ہیں جن کا ہمیں علم نہیں اور میں نے ہمیشہ اس کو آداب نبوۃ کے خلاف سمجھا ہے کہ کبھی کوئی سوال اس قسم کا کروں۔میں آپ کے حضور اقرار کرتا ہوں۔رضینا بالله رَبَّاو بک مسیحا مهدیا۔اس تقریر کے ساتھ ہی حضرت اقدس علیہ السلام نے بھی اپنی تقریر ختم کر دی۔" ( ملفوظات جدید ایڈیشن جلد 2 صفحہ 55) چھٹی شہادت حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کی رؤیا حضرت مولانا نورالدین صاحب بطور حضرت ابوبکر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب بیان کرتے ہیں۔" مجھ سے ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم صاحبہ نے بیان کیا ہے کہ جب حضرت صاحب آخری سفر میں لاہور تشریف لے جانے لگے تو آپ نے ان سے کہا کہ مجھے ایک کام در پیش ہے دعا کرو اور اگر کوئی خواب آئے تو مجھے بتانا۔مبارکہ بیگم نے خواب دیکھا کہ وہ چوبارہ پر گئی ہیں اور وہاں حضرت مولوی نورالدین صاحب ایک کتاب لئے بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو اس کتاب میں میرے متعلق حضرت صاحب کے الہامات ہیں اور میں ابوبکر ہوں۔دوسرے دن صبح مبارکہ بیگم سے حضرت صاحب نے پوچھا کہ کیا کوئی خواب دیکھا ہے؟ مبارکہ بیگم نے یہ خواب سنائی تو حضرت صاحب نے فرمایا! یہ خواب اپنی اماں کو نہ سنانا۔مبارکہ بیگم کہتی ہیں کہ اس وقت