جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 52 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 52

خلافت اولی : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے ضروری نوٹ: 52 یہ کتاب جو علم نجوم و جفر سے تعلق رکھتی ہے 1030ء کے دوران ہندوستان میں پہنچی اور خاندان حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے ایک فرد یاسین علی صاحب نے اس کا ترجمہ کیا اور لاہور میں تین جلدوں میں طبع ہوئی) پانچویں شہادت صدیق کا خطاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔" تم بہت سے نشانات دیکھ چکے ہو اور تروف نیکی کے طور پر اگر ایک نقشہ تیار کیا جاوے تو کوئی حرف باقی نہ رہے گا کہ اس میں کئی کئی نشان نہ آئیں۔تریاق القلوب میں بہت سے نشان جمع کئے گئے ہیں اور تم نے اپنی آنکھوں سے پورے ہوتے دیکھے۔اب وقت ہے کہ تمہارے ایمان مضبوط ہوں اور کوئی زلزلہ اور آندھی تمہیں ہلا نہ سکے۔بعض تم میں ایسے بھی صادق ہیں کہ انہوں نے کسی نشان کی اپنے لئے ضرورت نہیں سمجھی۔گو خدا نے اپنے فضل سے ان کو سینکڑوں نشان دکھا دیئے۔لیکن اگر ایک بھی نشان نہ ہو تا تب بھی وہ مجھے صادق یقین کرتے اور میرے ساتھ تھے۔چنانچہ مولوی نورالدین صاحب کسی نشان کے طالب نہ ہوئے۔انہوں نے سنتے ہی آمنا کہ دیا اور فاروقی ہو کر صدیقی کا عمل کر لیا۔لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر شام کی طرف گئے ہوئے تھے۔واپس آئے تو راستہ میں ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دعوی نبوت کی خبر پہنچی وہیں انہوں نے تسلیم کر لیا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے اس قدر تقریر فرمائی تھی کہ مولانا نور الدین صاحب حکیم الامت ایک جوش اور صدق کے نشہ سے سرشار ہو کر اُٹھے اور کہا کہ میں اس وقت حاضر ہوا