جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 534
خلافت خامسه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے _i ۴۵۔مکرم شیخ عمر احمد میر صاحب ابن مکرم شیخ نوراحمد منیر صاحب راولپنڈی 534 دسمبر 1999ء کو خواب میں دیکھا کہ میں اسلام آباد( پاکستان ) کی احمد یہ بیت الذکر میں داخل ہوا ہوں اور میں دیکھتا ہوں کہ ایک بڑے کمرے کے باہر ایوبی صاحب ( جو حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی گاڑی چلایا کرتے تھے ) کھڑے ہیں۔میں ان سے کہتا ہوں کہ سب لوگ نماز پڑھ رہے ہیں اور آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں۔وہ کہتے ہیں میں آنے والے خلیفتہ اسیح کا پہرہ دے رہا ہوں۔میں ان سے کہتا ہوں کہ مجھے بھی تو دیکھنے دیں۔نئے خلیفہ امسح کون ہیں میرے مسلسل اصرار پر وہ حامی بھرتے ہیں اور وعدہ لیتے ہیں کہ تم کسی کو بتاؤ گے نہیں۔جب میں کمرے میں داخل ہوتا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب تشریف فرما ہیں اور اس کے ساتھ میری آنکھ کھل جاتی ہے۔۔جنوری 2003ء کو میں نے رویا میں دیکھا کہ میں لندن میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع (رحمہ اللہ ) کے پیچھے نماز جمعہ ادا کر رہا ہوں۔سلام پھیرنے کے بعد جاتے ہوئے حضور کی نظر جب مجھ پر پڑتی ہے تو مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آپ کب آئے ہیں۔حضور کی قدم بوسی کے لئے آگے بڑھتا ہوں اور حضور سے مصافحہ کرتا ہوں تو حضور فرماتے ہیں۔شیخ صاحب میرے بعداب آپ نے صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب سے مصافحہ کرنا ہے۔اتنی دیر میں میں کیا دیکھتا ہوں که صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب حضور کے ساتھ آکر کھڑے ہو جاتے ہیں اور میں فوراً صاحبزادہ صاحب سے مصافحہ کر لیتا ہوں تو حضور رحمہ اللہ میری کمر پر تھپکی دیتے ہیں اور اس کے بعد میری آنکھ کھل جاتی ہے۔( تاریخ تحریر 03 مئی 2003ء)