جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 533
خلافت خامسه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے ۴۴ مکرمہ وسیمہ صاحبہ بنت کیپٹن شیخ نواب دین مرحوم صد را مجمن احمد یہ پاکستان ربود 533 حضرت خلیقه مسیح الرابع (رحمہ اللہ) کی بیماری کے ایام تھے اور جماعت کا ہر فرد پریشان تھا۔خدا کے حضور حضور کی صحت یابی کے لئے دعاؤں میں مصروف تھا۔عاجزہ اُن دنوں اپنے گھر یلو حالات سے بھی پریشان تھی اور اپنی بہن کے گھر دارالعلوم میں تھی اور دل کی گہرائیوں سے دعا تھی کہ اے اللہ ! اس دعا گو وجود کو صحت و سلامتی والی لمبی زندگی عطا فرما جو ہمارے دکھوں میں تریا اور ہمیں تسلی دی۔تجد کا وقت تھا۔چار کے نومبر کا مہینہ میں نے دیکھا حضرت خلیلہ مسیح الرابع (رحمہ اللہ) ایک آرام دہ کرسی پر خوش بیٹھے ہیں، ہمسکرا رہے ہیں اور حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب ان کی کرسی کے قریب کھڑے ہیں۔میں دیکھتی ہوں کہ انہوں نے اپنی پگڑی اُتاری اور اپنے دونوں ہاتھوں سے حضرت صاحبزادہ صاحب کے سر پر اس وقت پہنا دی جب آپ کوئی چیز لینے کے لئے نیچے بیٹھے تھے۔یہ نظارہ دیکھ کر یکدم میری آنکھ کھل گئی اور میں حیران و پریشان کہ میں نے یہ کیا نظارہ دیکھا۔اُٹھی وضو کیا اور خدا تعالیٰ کے حضور جھک گئی کہ اے خدا! تو حضور کو صحت و سلامتی والی لمبی عمر دے۔حضور کو میں نے خوش دیکھا لیکن دل نے گواہی دی کہ آئندہ امامت کی ذمہ داری صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب اٹھائیں گے۔حضور کو خدا تعالیٰ نے وقتی شفاء بھی دے دی اور جماعت احمدیہ کے افراد خوش وخرم ہو گئے لیکن جب خدا تعالیٰ سے بلاوا آیا تو پھر امامت کی ذمہ داری حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب کو خدا تعالیٰ نے سونپی۔الحمد للہ ( تاریخ تحریر 17 / دسمبر 2005ء)